شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 126

میں کلینک بھی بنایا ہوا تھا۔بوقت شہادت ان کی عمر 57 سال تھی اور دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔مسجد دارالذکر کے مین ہال میں محراب کے بائیں طرف بیٹھے تھے کہ باہر سے حملہ کے بعد جو پہلا گرنیڈ اندر پھینکا گیا اس میں زخمی ہوئے اور اسی حالت میں ہی شہید ہو گئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے شہادت سے چند دن قبل خواب میں دیکھا کہ آسمان پر ایک اچھا سا گھر ہے جو فضا میں تیر رہا ہے اور آپ اس میں اڑتے پھر رہے ہیں۔دوسری خواب میں دیکھا کہ زلزلہ اور طوفان آیا ہے چیزیں ہل رہی ہیں۔اور میں دوڑتی پھر رہی ہوں اور وہ مجھے مل نہیں رہے۔ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بہت نفیس آدمی تھے کبھی کسی سے سخت بات نہیں کی۔بچوں سے اور خصوصاً بیٹیوں سے بہت پیار تھا۔مریضوں سے حسن سلوک سے پیش آتے۔ہر ایک سے ہمدردی کرتے تھے۔ان کے غیر از جماعت مالک مکان نے جب اپنے حلقہ احباب میں ان کی شہادت کی خبر سنی تو اسے اتنا دکھ ہوا کہ وہ چکرا گئے۔کئی سعید فطرت لوگ ایسے ہیں۔چھ سال کے عرصہ کے دوران مالک مکان کو کرایہ گھر جا کر ادا کرتے تھے۔کبھی موقع ایسا نہیں آیا کہ مالک مکان کو کرایہ لینے کے لئے آنا پڑا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بہت شوق سے پڑھتے تھے۔چندہ باقاعدگی سے دیتے۔بیوی کو کہا ہوا تھا کہ روزانہ آمدنی میں سے ایک حصہ غریبوں کے لیے نکالنا ہے۔میرے خطبات باقاعدگی سے سنتے تھے۔بعض اوقات بار بار سنتے تھے۔ان کے ایک بیٹے نے بھی MBBS کر لیا ہے اور ہاؤس جاب کر رہا ہے۔وہ بھی اس سانحہ میں زخمی ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اس زخمی بیٹے کو اور تمام زخمیوں کو بھی صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔مکرم ارشد محمود بٹ صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ارشد محمود بٹ صاحب شہید ابن مکرم محمود احمد بٹ صاحب کا۔شہید کے پڑ دادا مکرم عبداللہ بٹ صاحب نے احمدیت قبول کی تھی اور پسر ورضلع سیالکوٹ کے رہنے 126