شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 106
تھے۔اس سے قبل پاکستان میں بھی کافی عرصہ ٹھہر کے کاروبار کرتے رہے ہیں۔بطور ناظم اطفال انہوں نے پاکستان میں خدمات سرانجام دیں۔قائد ضلع، قائد علاقہ مجلس خدام الاحمدیہ ضلع گوجرانوالہ، مجلس انصار اللہ علاقہ لا ہور، مرکزی مشاورتی بورڈ برائے صنعت و تجارت کے صدر اور ممبر کے علاوہ جنرل سیکرٹری ضلع لاہور کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 51 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان کی مسجد دارالذکر میں شہادت ہوئی ہے۔شہید ایک ماہ قبل امریکہ سے پاکستان اپنے کاروبار کے سلسلے میں آئے تھے اور نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد دارالذکر پہنچے تھے۔حملہ کے دوران صحن میں سیڑھیوں کے نیچے باقی احباب کے ساتھ قریباً ایک گھنٹہ رہے۔شائد بیسمنٹ میں چلے جاتے لیکن انہوں نے دیکھا کہ ایک زخمی بھائی ہے اس کو بچانے کے لئے سیڑھیوں سے نیچے کھینچنے کی کوشش میں دہشتگرد کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے اور ان کے سینے کی دائیں طرف گولی لگی۔کافی دیر تک زخمی حالت میں سیڑھیوں کے نیچے رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی شہادت منظور تھی، اس لئے مسجد میں ہی شہادت کا رتبہ پایا۔جب دارالذکر پر حملہ ہوا تو انہوں نے اپنے بڑے بیٹے شعیب سولنگی کو فون کیا کہ اس طرح حملہ ہوا ہے، بس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے اور گھر والوں کو بھی دعا کے لئے کہو۔انتہائی مخلص مالی جہاد میں پیش پیش تھے۔ان کو چھوٹی عمر سے ہی اعلی جماعتی عہدوں پر کام کرنے کی سعادت ملی۔جماعتی خدمت کا بھر پور جذبہ رکھتے تھے۔ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔مالی قربانیوں میں ہمیشہ سبقت لے جانے والے تھے۔گوجرانوالہ میں محلہ بھگوان پورہ میں مسجد تعمیر کروائی۔دارالضیافت ربوہ کی Reception کے لئے انہوں نے خرچ دیا محنتی اور نیک انسان تھے۔اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف بڑی توجہ دیتے رہے۔ہر کام شروع کرنے سے پہلے خلیفہ وقت سے اجازت اور رہنمائی لیتے تھے۔ان میں خلافت کی اطاعت بے مثال تھی۔ان کا بزنس پاکستان میں تھا۔ان کے کاروباری اور بعض دوسرے حالات کی وجہ سے میں نے ان کو کہا کہ امریکہ چلے جائیں۔تو 106