شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 55 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 55

قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے اور آپ نے ۱۸۸۹ء کو ایک جماعت کی بنیاد رکھی جس کا نام جماعت احمد یہ ہے جس میں ہر قوم وملت سے لوگ داخل ہوئے۔اور انکی صداقت کے لئے سورج چاند ایک راشی میں جمع ہو کر ۱۸۹۴ء میں اپنی روشنی بند کرتے ہوئے گرہن کا نشان بھی پورا ہو چکا ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا اصل نام ”احمد“ ہے جس کا ویدوں اور کلکی پر ان میں ذکر ملتا ہے۔آپ کے نام کے ساتھ مرزا اور غلام یہ آپ کے خاندانی خطاب ہیں جو کسی زمانہ میں آپ کے خاندان کو عطا ہوئے تھے جس کا ذکر خود اسی مہرشی نے اپنی کتاب حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۱ پر کیا ہے اس طرح اس ”احمد“ کے آنے کی پیشگوئی جس نے کرشن کا مثیل ہو کر آنا تھا آپ کے وجود میں پوری ہو چکی ہے۔اسی طرح اس مہرشی کے بہادری دکھانے کا مقام جو قدون‘ بتایا گیا تھا وہ وہی قادیان ہے جہاں آپ پیدا ہوئے جس کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدعہ“ کے نام سے یاد کیا ہے۔اسی طرح سنبھل، مقام کے معانی شانتی کی جگہ پوتر ستھان اور ایشور کی پوجا کا ستھان قادیان پر ہی صادق آتے ہیں کیونکہ اس جگہ کو قادیان دار الامان" کے نام سے یاد کیا گیا۔اسی طرح اس مہرشی کی آمد سے یہ جگہ ارضِ حرم بن گئی اور ساتھ ہی ایشور کی پوجا کا ستھان بنی کہ ساری دنیا سے لوگ یہاں پوجا کرنے اور برکت حاصل کرنے آتے ہیں۔اسی طرح وہ جماعت جو یہاں سے نکلی وہ دلائل سے لوگوں پر غالب آتی ہے۔پس وہ تمام قو میں جو کلکی اوتار کے انتظار میں ہیں ان کے لئے یہ خوش خبری ہے کہ وہ آنے والا اوتار اپنے وقت پر ظاہر ہو چکا اور شری کرشن جی مہاراج کی پیشگوئیوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی اور شری کرشن جی مہاراج کی صداقت پر مہر ثبت کر چکا اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کا کرشن ہونے کا دعوی ہندو بھائیوں کے لئے غور اور تحقیق کے لائق ہے۔۵۵