شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 42 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 42

سنیاس سب چھوٹ جائے گا اور نوکر ہوں گے مگر دُکھ کے وقت اپنے مالک کی سایتا (مدد) نہ کرتے ہوں گے۔دوسری جگہ جا کر نوکر ہوا کریں گے اور بہت سے لوگ اولاد کے خواہش مند ہوں گے اور جن کے نہ ہونے سے بھوت پریت کی پوجا کیا کریں گے اور مایا کی خاطر پتر اور بھائی بھائی آپس میں دکھ دیں گے اور کم اناج ہونے پر لوگ اپنی بیٹی بیٹا کھانے کی خاطر بیچ ڈالیں گے۔۔۔۔۔اس طرح انیک پاپ ہو کر پر ماتما کی بھگتی کم ہو جائے گی۔“ ( شریمد بھگوت پران ، بارہواں اسکند صفحه ۶۵۰ تا۶۵۴، اردوترجمه مطبع منشی نول کشور مقام لکھنو ۱۹۳۲ء ) ( مہابھارت ون پر مجھ ) کلیگی آوتار کا انتظار شری کرشن جی مہاراج نے کل یگ کی جتنی بھی نشانیاں بیان کی تھیں وہ سب کی سب پوری ہو چکی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک زمانہ میں شری کرشن جی کے سچے پریمیوں نے آپ کی آمد ثانی کا بڑی شدت سے انتظار کیا اور آج بھی کر رہے ہیں ایک صاحب لکھتے ہیں : نغمہ توحید پھر آکر سنا دے ہند کو پست ہے یہ اوج کی صورت دکھادے ہندکو رہا ہے قصر ذلت میں اُٹھادے ہند کو روکش باغ جناں پھر سے بنادے ہند کو اے کرشن آ! بام رفعت پر چڑھا دے ہند کو ڈھونڈتے ہیں ہند کے دن رات مجھ کو مرد وزن پھر ترستے ہیں ترے دیدار کو اہلِ وطن