شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 30
شری کرشن پر لگنے والے الزامات اور ان کی حقیقت اس جگہ میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ ان واقعات کو بیان کروں جو شری کرشن جی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں جن سے آپ کی کسر شان ہوتی ہے اور ساتھ ہی ان کی توجیہ بھی بیان کروں جو میرے نزدیک ہو سکتی ہے جس سے آپ کے کمالات کا اظہار ہوتا ہے اور آپ کا دامن بھی الزامات سے پاک ٹھہرتا ہے۔(1) ماکھن چور کی حقیقت :: حضرت شری کرشن جی مہاراج پر جو سب سے پہلا الزام لگایا جاتا ہے وہ آپ کی بچپن کی زندگی پر ہے کہ آپ مکھن چوری کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے لوگ حضرت شری کرشن جی کو ماکھن چور بھی کہتے ہیں۔میری کئی لوگوں سے بات ہوئی ہے ان سے پیار کرنے والے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو بچپن کا واقعہ ہے اور بچے بچپن میں ایسا کر لیتے ہیں کوئی حرج کی بات نہیں۔لیکن شری کرشن پریمیوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ چوری چوری ہی ہوتی ہے اور پھر اگر بچپن میں چوری کی عادت پڑ جائے تو بڑے ہو کر کب جاتی ہے۔کرشن پر یمی تو فخر سے ماکھن چور کہہ کر پکارتے ہیں۔قارئین زیرے کی چوری کرنے والا بھی چور کہلاتا ہے اور ہیرے کی چوری کرنے والا بھی چور کہلاتا ہے۔چوری ایک الزام ہے اس کو نبی کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔خدا کے نبی ایسی باتوں سے پاک ہوتے ہیں۔اور حضرت کرشن ان ہی لوگوں میں سے تھے جنہوں نے خدا کی محبت کا دودھ پیا تھا۔بہر حال آپ کی طرف منسوب ہونے والا یہ واقعہ تو جیہہ کے قابل ہے۔جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا تھا کہ خدا کی طرف سے ہر زمانہ میں نبی آئے اور خدا کی