شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 23
نے فرمایا کہ ہندوستان میں جو مقدس اور بزرگ لوگ گزرے ہیں جیسے رامچندر جی یا کرشن جی ہم کو ان کی برائی نہ کرنی چاہئے۔شاید وہ اللہ کے پیغمبر ہوں۔( تفسیر وحیدی صفحه ۷۰۳، زیر آیت وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا سُلًا مِنْ قَبْلِكَ۔۔۔۔حاشیه نمبر ۴) اسی طرح مولانا سید اختر موہانی ایڈیٹر ”جام جہاں نما لکھنو کا ایک نوٹ کرشن اور اسلام“ کے عنوان کے تحت اخبار تیج کرشن نمبر مورخہ ۱۰ راگست ۱۹۳۶ میں شائع ہوا تھا جس میں لکھا ہے کہ : " میرے خیال میں وہ (کرشن جی ) برگزیدہ اوتار تھے اور دنیا کی ہدایت کے لئے مامور من اللہ ہو کر ظاہر ہوئے تھے۔ان کا تقدس اور احترام دنیا کے ہر متنفس پر یکساں واجب ہے۔“ کتب ہنود میں توحید شری کرشن جی مہاراج کے متعلق مسلمانوں کے خیالات کی بخوبی عکاسی ہو جاتی ہے۔کتنے ہی مسلم شعرا ہیں جنہوں نے شری کرشن جی کے متعلق اشعار کہے ہیں۔مسلمانوں میں سے جتنے بھی بزرگ اولیاء گزرے ہیں جنہوں نے شری کرشن جی کو نبی تسلیم کیا ہے وہ سب کے سب آپ کو موحد مانتے تھے۔آپ ایک خدا کی عبادت کرتے اور ایک خدا کی عبادت کرنے کی تلقین کرتے تھے جس کی ایک مثال شروع میں پیش کی جاچکی ہے۔ایسے ہی دو حوالے اور پیش کر دنیا ضروری خیال کرتا ہوں۔بھگوت گیتا میں لکھا ہے : ۲۳