شمائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم — Page 11
15 14 حضور نے کہا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔میں بڑی طاقتوں والا اور نقصان کی تلافی کرنے والا ہوں۔میرے لئے ہی بڑائی ہے۔میں بادشاہ ہوں میں بلندشان والا ہوں۔“ اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی ذات کی مسجد اور بزرگی بیان کرتا ہے۔آنحضرت متلاقہ ان کلمات کو بار بار بڑے جوش سے دہرا رہے تھے یہاں تک کہ منبر لرز نے لگا اور ہمیں خیال ہوا کہ کہیں منبر گر ہی نہ جائے۔غیرت توحید صلى الله ( مسند احمد بن جنبل جلد 2 ص 88) حضرت براہ کہتے ہیں کہ رسول کریم متعاقہ نے پیادہ فوج کے پچاس آدمیوں پر احد کے دن حضرت عبد اللہ بن جبیر کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ ہمیں جانور نوچ رہے ہیں تب بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہلنا جب تک تم کو میں کہلا نہ بھیجوں۔اور اگر تم یہ معلوم کر لو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے اور ان کو مسل دیا ہے تب بھی اس وقت تک کہ تمہیں کہلا نہ بھیجا جائے اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔اس کے بعد جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے کفار کو شکست دے دی۔اس بات کو دیکھ کر حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا کہ اے قوم غنیمت کا وقت ہے، غنیمت کا وقت ہے تمہارے ساتھی غالب آگئے پھر تم کیا انتظار کر رہے ہو اس پر عبد اللہ بن جبیر نے انہیں کہا کہ کیا تم رسول کریم ملالہ کا حکم بھول گئے ہو۔انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم بھی ساری فوج سے مل کر غنیمت حاصل کریں گے۔جب لشکر سے آکر مل گئے تو ان کے منہ پھیرے گئے اور شکست کھا کر بھاگے اسی کے بارہ میں قرآن شریف کی یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ یاد کرو جب رسول تم کو پیچھے کی طرف بلا رہا تھا اور رسول کریم متلاقہ کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رہا اس وقت کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کا نقصان کیا اور رسول کریم ملاقہ اور آپ کے اصحاب نے جنگ بدر میں کفار کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا۔ستر قتل ہوئے تھے اور ستر قید کئے گئے تھے۔غرضیکہ جب لشکر پراگندہ ہو گیا اور رسول کریم کے گرد صرف ایک قلیل جماعت ہی رہ گئی تو ابوسفیان نے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد معلاقہ ہے اور اس بات کو تین بار دہرایا لیکن رسول کریم نے صحابہ کو منع کر دیا کہ وہ جواب دیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے تین دفعہ بآواز بلند کہا کہ کیا تم میں ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکر) ہے۔اس کا جواب بھی نہ دیا گیا تو اس نے پھر تین دفعہ پکار کر کہا کہ کیا تم میں ابن الخطاب (حضرت عمر) ہے۔پھر بھی جب جواب نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ لوگ مارے گئے ہیں۔اس بات کو سن کر حضرت عمر برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ اے خدا کے دشمن تو نے جھوٹ کہا ہے جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں اور وہ چیز جسے تو نا پسند کرتا ہے ابھی باقی ہے۔اس جواب کو سن کر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کا بدلہ ہو گیا۔اور لڑائیوں کا حال ڈول کا سا ہوتا ہے تم اپنے مقتولوں میں بعض ایسے پاؤ گے کہ جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں گے۔میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا لیکن میں اس بات کو نا پسند بھی نہیں کرتا۔پھر فخریہ کلمات بآواز بلند کہنے لگا اُعْلُ هُبَلَ اُعْلُ هُبَل یعنی اے ہبل ( بت) تیرا درجہ بلند ہو، اے ہبل تیرا درجہ بلند ہو۔اس پر رسول کریم ملالہ نے فرمایا کہ تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے۔صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا کہو : اللہ اعلی واجل ” خدا تعالیٰ ہی سب سے بلند رتبہ اور سب سے زیادہ شان والا۔ابوسفیان نے یہ سن کر کہا ”ہمارا تو ایک بت عزمی ہے اور تمہارا کوئی عز کی نہیں“۔جب صحابہ خاموش رہے تو رسول کریم نے فرمایا کہ کیا تم جواب نہیں دیتے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول لا ہے۔66 www۔alislam۔org