شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 89
89 پاس بمقام کا بل میں حاضر ہو جاؤں۔بلا اجازت اس لئے تشریف نہ لے گئے کہ وقت سفرا میر صاحب کو یہ اطلاع دی تھی کہ میں حج کو جاتا ہوں۔مگر وہ ارادہ قادیان میں بہت دیر تک ٹھہرنے سے پورا نہ ہو سکا اور وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔قبل اس کے کہ وہ سر زمین کا بل میں وارد ہوں اور حدو د ریاست کے اندر قدم رکھیں احتیاطاً قرین مصلحت سمجھا کہ انگریزی علاقے میں رہ کر امیر کا بل پر اپنی سرگزشت کھول دی جائے کہ اس طرح پر حج کرنے سے معذوری پیش آئی۔انہوں نے مناسب سمجھا کہ بریگیڈیئر محمد حسین کو خط لکھا تا وہ مناسب موقعہ پر اصل حقیقت مناسب لفظوں میں امیر کے گوش گزار کر دیں اور اس خط میں یہ لکھا کہ اگر چہ میں حج کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا مگر مسیح موعود کی مجھے زیارت ہوگئی اور چونکہ مسیح کے ملنے کے لئے اور اس کی اطاعت مقدم رکھنے کے لئے خدا اور سول کا حکم ہے اس مجبوری سے مجھے قادیان میں ٹھہرنا پڑا اور میں نے اپنی طرف سے یہ کام نہ کیا بلکہ قرآن اور حدیث کی رو سے اسی امر کو ضروری سمجھا۔جب یہ خط بریگیڈیئر محمد حسین کو توال کو پہنچا تو اس نے وہ خط اپنے زانو کے نیچے رکھ لیا اور اس وقت پیش نہ کیا مگر اس کے نائب کو جو مخالف اور شریر آدمی تھا کسی طرح پتہ لگ گیا کہ یہ مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا خط ہے اور وہ قادیان میں ٹھہرے رہے۔تب اس نے وہ خط کسی تدبیر سے نکال لیا اور امیر صاحب کے آگے پیش کر دیا۔امیر صاحب نے بریگیڈیئر محمد حسین کو تو ال سے دریافت کیا کہ کیا یہ خط آپ کے نام آیا ہے۔اس نے امیر - کے موجودہ غیظ و غضب سے خوف کھا کر انکار کر دیا۔مولوی صاحب شہید نے کئی دن پہلے خط کے جواب کا انتظار کر کے ایک اور خط بذریعہ ڈاک محمد حسین کو توال کو لکھا۔وہ خط افسر ڈاکخانہ نے کھول لیا اور امیر صاحب کو پہنچا دیا۔چونکہ قضاء و قدر سے مولوی صاحب کی شہادت مقدر تھی اور آسمان پر وہ برگزیدہ بزمرۂ شہداء داخل ہو چکا تھا اس لئے امیر صاحب نے ان کے بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا اور ان کی طرف خط لکھا کہ آپ بلا خطرہ چلے آؤ۔اگر یہ دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا۔بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ خطا میر صاحب نے ڈاک میں بھیجا تھا یا دستی روانہ کیا تھا۔بہر حال اس خط کو دیکھ