شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 40 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 40

40 اجازت نہ تھی۔پہلا کام آپ نے یہ کیا کہ ان سے کہا کہ اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں اور اگر اپنے گھروں کو جانا چاہیں تو جتنا سامان چاہیں ساتھ لے کر جاسکتی ہیں، ان کی طرف سے اجازت ہے۔اس پر وہ اپنی خواہش کے مطابق رخصت ہو گئیں۔جب آپ کی برادری کے لوگوں کو اس کا علم ہوا تو وہ آپ سے ناراض ہوئے اور کہا کہ آپ نے تو ہماری ناک کاٹ ڈالی ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ اگر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر عمل کرنے سے ناک کٹتی ہے تو کٹے مجھے ایسی ناک کی ضرورت نہیں۔سید احمد نور بیان کرتے ہیں کہ آپ کے مہمان خانہ میں عموماً تھیں چالیس آدمی رہتے تھے۔آپ بہت مہمان نواز تھے۔ان سب لوگوں کے کھانے کا انتظام آپ کی طرف سے ہوتا تھا۔آپ کی ایک وسیع بیٹھک تھی جس میں دوصد افراد بیٹھ سکتے تھے۔جب لوگ نماز کے لئے آتے تو پہلے بیٹھک میں مجلس ہوتی ، قرآن وحدیث کا درس دیا جاتا تھا اور دینی امور پر گفتگو ہوتی تھی۔جب نماز کا وقت ہوتا تو سب مسجد میں آ جاتے اور نماز ادا کرتے تھے۔مسجد میں نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی بات چیت نہیں ہوتی تھی۔مسجد کے احاطہ میں حجرے بنے ہوئے تھے جن میں آپ کے شاگر درہا کرتے تھے۔جانب شمال ایک نہر تھی جو آپ کے گھر کے صحن میں سے گزرتی تھی۔آپ نہایت سخی تھے اور غرباء کا خاص خیال رکھتے تھے۔جب قحط سالی ہوتی تو آپ اپنا تمام غلہ فروخت کر کے اس سے حاصل شدہ آمد غریبوں کی امداد میں صرف کر دیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں خوست میں تین قسم کے لوگ تھے۔ایک طبقہ حاکموں کا تھا، دوسرے عام مولوی اور تیسرے شیخان جو تصوف کا رنگ رکھتے تھے اور اپنے آپ کو قادری سلسلہ کی طرف منسوب کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے جب میں نے ان تینوں گروہوں کو دیکھا