شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 39
39 گا۔جب دہلی سے اہل حدیث مولوی صاحبان آئے تو آپ ان سے بحث کرنے کے لئے تیار ہو کر آ گئے۔اس موقعہ پر جو سوالات کئے گئے حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کے ایسے جواب دئے کہ آنے والے مولوی حیران رہ گئے اور خاموشی سے دہلی واپس چلے گئے۔لکھنو میں حضرت صاحبزادہ صاحب مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی کے شاگرد تھے۔مولا نا عبدالحی صاحب دوسرے طالبعلموں کی نسبت آپ کی طرف زیادہ توجہ فرماتے تھے۔اس کا دوسرے شاگروں نے شکوہ کیا اس پر مولانا نے فرمایا: اس کا نام لطیف، قوم لطیف، زمین لطیف ، رنگ لطیف - جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنے لطف جمع کر دئے ہیں تو ایک لطف میرا بھی سہی۔تم کیوں برا مانتے ہو۔اس موقعہ پر ضمنا یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مولانا عبدالحی فرنگی محلی کے ممتاز شاگردوں میں دو اور احمدی بزرگ بھی تھے جو کسی زمانہ میں ان سے تعلیم پاتے رہے۔یعنی حضرت مولانا سید عبدالواحد صاحب امیر بنگال اور حضرت مولانا سید عبدالماجد صاحب امیر بہار۔حضرت صاحبزادہ صاحب ایام طالب علمی میں صوبہ سرحد کے ایک مقام بازید خیل میں بھی مقیم رہے تھے۔یہ گاؤں جناب صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب مرحوم کا ہے۔بازید خیل میں بہت سے بزرگ عالم گزرے ہیں اور تحصیل علم کے لئے دور دور سے طالب علم یہاں آتے تھے۔جناب صاحبزادہ غلام احمد صاحب نے بتایا کہ حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف صاحب سے ان کے خاندان کی جدی رشتہ داری بھی ہے۔(۴) تحصیل علم کے بعد وطن میں قیام اور مصروفیات تحصیل علم کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے وطن واپس آ گئے اور سید گاہ میں قیام کر کے علوم دینیہ کی تعلیم و تدریس، اصلاح احوال، قیام سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تربیت خلق میں مصروف ہو گئے۔اس وقت وہاں کے رواج کے مطابق ان کی سوتیلی مائیں ان کے آبائی گھر میں بیوگی کی حالت میں اپنا وقت گزار رہی تھیں۔ان کو کہیں آنے جانے کی