شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 379
379 تک اثر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا مقام عطا فرمایا تھا کہ وہ صحیح الہام پاتے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب میں نے دیکھا کہ جماعت میں تبلیغ کا پہلو نہایت کمزور ہو رہا ہے تو اس وقت میں نے تجویز کی کہ ہم ایک ایسی جماعت بنا ئیں جس کا فرض ہو کہ وہ دنیا میں تبلیغ کرے۔میں نے اس تجویز کا علم اس وقت کسی کو نہ دیا۔یہاں تک کہ اپنے گہرے دوستوں سے بھی اس کا ذکر نہ کیا۔” جہاں تک میرا خیال ہے صرف میں نے حضرت خلیفتہ امیج اول رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کر دیا تھا لیکن بالکل ممکن ہے میں نے ان سے بھی ذکر نہ کیا ہو۔کیونکہ مجھ پر اثر یہی ہے کہ میں نے ابھی اس تجویز کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔پھر میں نے بعضوں کو استخارہ کے لئے اور بعض کو دعا کے لئے کہا جنہیں مجملا بتا دیا کہ کوئی دینی بات ہے اس کے لئے دعا کریں۔اس سے زیادہ میں نے کسی کے سامنے وضاحت نہ کی۔مولوی عبدالستار خان صاحب افغان کو بھی میں نے لکھا کہ میرے دل میں ایک مقصد ہے آپ اس کے لئے دعا کریں اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ معلوم ہو تو اس سے مجھے مطلع کریں۔دو تین روز کے بعد انہوں نے مجھے جواب دیا۔اگر چہ میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا کہ میرے دل میں کیا مقصد ہے آیا وہ میرا ذاتی کام ہے یا دینی اور اگر دینی کام ہے تو کیا؟ لیکن جواب میں اوّل انہوں نے مختلف الہامات لکھے جو سارے کے سارے تبلیغ کے متعلق تھے اور پھر ایک روڈ یا لکھی کہ ایک میدان میں تمام لوگ کھڑے ہیں اور مفتی محمد صادق صاحب بھی وہیں ہیں۔پھر لکھا آپ نے یہ کہنے کے بعد (انہیں) کسی پہاڑی سرد علاقہ میں تبلیغ کے لئے بھیج دیا۔گویا جو تبلیغ کا نقشہ میرے ذہن میں تھا وہ خدا تعالیٰ نے سارے کا سارا بتا دیا۔پھر جزئیات بھی بتا دیں جواب تک پوری ہو رہی ہیں۔وو چنا نچہ مفتی محمد صادق صاحب کو عرصہ تک با ہر تبلیغ کے لئے میں نے بھیج دیا اور اب بھی پہاڑوں پر انہیں مختلف کاموں کے لئے بھیجنا پڑتا ہے۔دد بعض اور امور میں بھی میرا اُن کے متعلق تجربہ ہے مگر اس واقعہ کا میرے دل پر