شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 377 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 377

377 گئے-انالله و انا اليه راجعون وو مرحوم قادیان میں سب سے پہلے ۱۸۹۷ء میں تشریف لائے۔اس کے بعد دو تین مرتبہ اپنے علاقہ خوست سے آتے رہے۔آپ نہایت منکسر المزاج، پاک طینت اور اعمال صالحہ بجالانے والے انسان تھے۔صاحب مکاشفات بھی تھے۔آپ عمر بھر مہمان خانہ کے ایک چھوٹے سے حجرہ میں نہایت صبر وشکر کے ساتھ فقیرانہ رنگ میں اقامت گزیں رہے۔و, حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بہت بڑے مجمع کے ساتھ باغ میں آپ کا جنازہ پڑھایا۔پھر باغ سے لے کر بہشتی مقبرہ تک نعش کو کندھا دیا۔چہرہ دیکھ کر حضور تشریف لے آئے۔وو واپسی پر مرحوم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو غصہ کے وقت اپنے نفس پر بہت قابو تھا۔بلکہ اس خصوص میں آپ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔حضور نے یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کے روحانی تعلق کا ثبوت ہے کہ جب تک میں ڈلہوزی سے واپس نہیں آیا ان کی وفات نہیں ہوئی پھر آپ نے ایک رؤیا کا ذکر فرمایا جو ڈلہوزی میں دیکھا تھا کہ قادیان میں ایک ایسے شخص کی وفات ہوئی ہے جس سے زمین و آسمان ہل گئے ہیں۔مرحوم بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔" اُن کی عمر کا صحیح اندازہ نہیں۔اغلبا ۷۰ برس کے قریب تھی۔’ احباب سے درخواست ہے کہ جنازہ غائب پڑھیں اور آپ کی بلندی درجات کے لئے خصوصیت سے دعا مانگیں۔‘ (1)