شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 360 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 360

360 جس شخص نے مجھے واقعات حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب اور مولوی عبداللہ خان صاحب ( صحیح نام قاری نور علی ہے ) کے بتلائے اس نے مجھ سے یہ وعدہ کیا کہ میں اس کا نام ظاہر نہ کروں۔”اس نے یہ واقعات خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کئے اور میں جہاں تک ممکن ہے۔اس کے الفاظ میں بیان کروں گا۔یہ حالات میں اور میرا ایک عزیز جو احمدی ہے۔سن رہے تھے۔ہم دونوں اپنے جذبات قابو کئے ہوئے تھے۔بیان اس کا ایسی طرز پر تھا کہ احمدی تو درکنار کوئی اور سخت سے سخت دل انسان بھی سن کر کانپ جاتا۔چنانچہ بیان کرنے والے کی ایک قریبی رشتہ دار خاتون پاس بیٹھی سن رہی تھیں۔ان کے آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور بے اختیار وہ الامان الامان اور الہی تو یہ الہی تو بہ کرنے لگی۔کہنے لگی۔خدا جانے یہ کیسے سنگدل اور ظالم ہیں۔کیا انہیں سزا نہیں ملے گی۔ان کو ذرا رحم نہ آیا کہ انسانوں کو بھیٹر بکرے کی طرح ذبح کر دیا۔بہت بُرا کیا اور کئی گھنٹے تک انکی یہی حالت رہی اور بار بار کانوں پر ہاتھ دھر کر الہی تو بہ الہی تو بہ کہتی رہیں۔(۱۱) ” میری دوکان کے پاس دس پندرہ پولیس والے دو آدمیوں کو گرفتار کئے ہوئے لئے جا رہے تھے۔ایک ان میں سے نوجوان قریباً تمہیں سال کا تھا اور ایک عمر رسیدہ پچاس سے زیادہ عمر کا تھا۔دونوں پابجولاں تھے۔دونوں کے سروں پر عمامے بدن پر کوٹ شلوار پیروں میں جوتے تھے۔۔۔۔۔۔۔پیچھے پیچھے ایک بڑا ہجوم تھا جو کہ بڑھتا چلا جا رہا تھا اور لوگ اس میں شامل ہوتے جا رہے تھے۔اور وہ لوگ آپس میں ہنس ہنس کر اور مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے ہوئے چلے جارہے تھے۔گویا کہ کسی تماشہ کو دیکھنے جارہے تھے۔منادی کرنے والا جگہ بہ جگہ کھڑا ہو کر اعلان کرتا تھا کہ ان دونوں قادیانیوں کو بحکم قاضی القضاة آج بعد نماز عصر سنگسار کیا جائے گا۔دونوں خاموش تھے چہرے کا رنگ زرد تھا۔بڑھے کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور کچھ پڑھتا جا رہا تھا۔میں اپنے چند دوستوں کے وو