شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 315 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 315

315 ایک عام اعلان کے ذریعہ ان سپاہیوں اور افسروں کو دعوت دی گئی کہ وہ اس فوج میں شامل ہو جائیں اس اعلان کو بچہ سقا ؤ نے بھی سنا چونکہ وہ بھی اس فوج کا ممبر تھا گواب وہ باغی اور ڈاکو تھا لیکن اس نے اس فوج میں شامل ہو کر خوست کے علاقہ میں جنرل محمد نادر خان کی سرکردگی میں خدمات ادا کی تھیں۔اس زمانہ میں سردار احمد علی خان سمت شمالی کا حکومت کا بل کی طرف سے والی تھا جس کا ہیڈ کوارٹر جبل السراج میں تھا۔امیر امان اللہ خان نے اس کو مشورہ کے لئے کابل بلایا اور اسے خفیہ طور پر ہدایات دیں کہ بچہ سقاؤ اور سید حسین سے بات چیت کر کے ان دونوں کو بغاوت کے ختم کرنے پر آمادہ کرے اور اس کے بدلے میں علاوہ معافی کے ان دونوں کو فوج میں کرنل کا عہدہ دیئے جانے کی پیش کش کرے۔چنانچہ سردار احمد علی خان نے حسب ہدایت امان اللہ خان دونوں سے الگ الگ خفیہ بات چیت کی اور ان کو بغاوت ختم کرنے اور فوج میں بھرتی ہونے پر راضی کرلیا۔دو ڈاکوؤں سے یہ معاہدہ نشان دہی کرتا ہے کہ اس وقت حکومت اپنی کمزوری کی وجہ سے خوف زدہ تھی۔اب بچہ سقاؤ کی اہمیت بڑھ گئی تھی اور وہ بغیر کسی خوف و خطر کے کھلم کھلا سرائے خوجہ میں بیٹھ کر قطعہ نمونہ کے ساتھ فوجیوں اور کوہ دامن کے رہنے والے دوسرے لوگوں کو سرکاری فوج میں بھرتی کر رہا تھا۔اس کے علاوہ سردا را احمد علی خان جبل السراج میں بھرتی کا کام کر رہا تھا۔حکومت خوش تھی کہ اس نے ایک تیر سے دو شکار کر لئے ایک تو ڈاکوؤں کی رہزنی سے عوام کو محفوظ کر لیا اور دوسرے حکومت کی فوج اور دفاع کے انتظام میں بھی بہتری پیدا ہو گئی۔اب سمت مشرقی کے باغیوں پر بھی بخوبی قابو پایا جا سکے گا کابل کے اخبارات بچہ سقاؤ کی تعریفوں میں اپنے صفحات سیاہ کر رہے تھے۔ادھر بچہ سقا ؤ بظا ہر تو حکومت سے تعاون کر رہا تھا لیکن اس کے دل میں خدشات باقی تھے کہ کہیں اس موقعہ پر بھی امیر امان اللہ خان بد عہدی نہ کرے۔اس نے اپنے جی میں یہ