شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 314 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 314

314 بھجوایا تھا لیکن وہ اس بات میں بالکل ناکام ثابت ہوئے تھے جب وہ واپس آئے تو ان میں اور بادشاہ کے درمیان مخالفت اور ناراضگی قائم ہو گئی اس لئے ملا صاحب شور بازار عواقب سے بچنے کے لئے حج کرنے چلے گئے اور جب واپس آئے تو کابل آنے کی بجائے سرہند چلے گئے اور وہاں حضرت مجدد الف ثانی کے مزار کے پاس مقیم ہو گئے تھے اور افغانستان کے حالات کا انتظار کرتے تھے۔سمت جنوبی میں ان کے کردار اور نا کامی کی وجہ غالبا یہ ہو سکتی ہے که ملا صاحب شور بازار ایک تجربہ کار اور ہوشیار آدمی تھے انہوں نے امیر امان اللہ خان کے عزائم کو بھانپ لیا تھا اور وہ سمجھ گئے تھے کہ جس قسم کی آزادی اور اصلاحات امیر افغانستان میں نافذ کرنا چاہتا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ کسی نہ کسی موقعہ پر حکومت اور افغانستان کی روایتی مذہبی لیڈرشپ کا ٹکراؤ ہوگا اور دونوں کے درمیان جو جنگ ہوگی وہ اپنی survival کی جنگ ہو گی جس میں ایک فریق اپنے بچاؤ کے لئے دوسرے فریق کو کالعدم کرنا چاہے گا۔اس لئے ملا صاحب شور بازار نہیں چاہتے تھے کہ سمت جنوبی کی مذہبی لیڈر شپ یعنی ملاء لنگ اور ملاء عبدالرشید صلح کروا کے حکومت کے حوالے کر دیں۔سمت شمالی میں بچہ سقاؤ کی بغاوت کے حالات اس کا کچھ ذکر پہلے آچکا ہے اکتوبر ۱۹۲۸ء کے آخر میں اس نے جب کا بل پر حملہ کیا تھا تو اگر چہ اس کو پسپا ہونا پڑا تھا لیکن اس حملہ سے عوام پر حکومت امان اللہ کی کمزوری واضح ہو گئی اور اس حملے نے حکومت کے دفاعی انتظامات کو بھی کھوکھلا کر دیا تھا۔اب سید حسین بھی بچہ سقاؤ کے ساتھ مل چکا تھا اور ان دونوں کے ملنے سے باغیوں کی طاقت میں اضافہ ہو چکا تھا۔کابل پر حملہ کی پسپائی کے بعد امیر امان اللہ خان کو احساس ہوا کہ اس کے دفاعی انتظامات بہت کمزور ہیں اس نے بعض لوگوں کے مشورہ سے یہ تجویز کی کہ قطعہ نمونہ کی فوج کو دوبارہ قائم کیا جائے کیونکہ یہ ترک جرنیل جمال پاشا کی تربیت یافتہ تھی اور اس کا معیار دوسرے فوجیوں کی نسبت بہت بہتر تھا۔