شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 310 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 310

310 رہتے تھے۔سمت مشرق میں بغاوت کا آغاز شنواری قبیلہ جو کا بل کے جانب مشرق جلال آباد کے قریب آباد ہے اس میں سب سے پہلے بغاوت کا آغاز ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ امیر امان اللہ خان کی حکومت افغانستان کی نوجوان دوشیزہ لڑکیوں کو تعلیم کے لئے بیرونی ممالک میں بھجوانا چاہتی تھی جسے عام افغان بے غیرتی سمجھتے تھے۔ان لڑکیوں میں سے بعض کے والدین نے بہ رضاء و رغبت یا بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی بچیوں کو باہر بھیجا جانا قبول کر لیا تھا لیکن اکثر اسے ناپسند کرتے تھے۔ان لڑکیوں کے پہلے گروپ کو موٹروں پر سوار کروا کے ہندوستان کے راستے بیرون ممالک بھجوایا جا رہا تھا۔جب شنواریوں کو اس کا علم ہوا کہ لڑکیوں کی موٹروں کا قافلہ ان کے قبیلہ کے حدود سے گزرے گا تو انہوں نے اپنے ملاؤں کے اکسانے پر اس قافلہ کو روکنے کا پروگرام بنالیا اور قبیلہ کے سینکڑوں مسلح آدمی سڑک پر آ کر بیٹھ گئے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ قافلہ کو روک لیں گے اور حکومت افغانستان پر اپنی ناراضگی واضح کر دیں گے تاکہ وہ اس فیصلہ کو بدل دے لیکن چونکہ یہ قافلہ تیز رفتار موٹروں پر سوار تھا اس لئے وقت کا اندازہ کرنے میں غلطی لگی اور قافلہ ان کے ہاتھ نہ آ سکا اور شنواریوں کو ایک دل شکن نا کامی کا سامان کرنا پڑا وہ حکومت کے خلاف غیظ و غضب سے بھر گئے۔شنواریوں نے اپنے علاقہ میں واپس جا کر ایک کہرام برپا کر دیا اور حکومت کے خلاف تخریب کاری کے منصوبے بنانے لگے ملاؤں نے ان کا جوش و خروش دیکھ کر بادشاہ کے خلاف اعلانِ جہاد کر دیا۔رفتہ رفتہ یہ خبر اس علاقہ میں متعین فوج میں بھی پھیل گئی اس علاقے میں ایک شنواری پلٹن بھی تھی انہوں نے عوام کے ساتھ مل کر چھاؤنیوں کو لوٹ لیا اس طرح با قاعدہ علم بغاوت بلند کر دیا گیا۔جب شنوار کی بغاوت کی اطلاع کابل میں پہنچی تو حکومت نے مصلحی چند دن اس کو پوشیدہ رکھا لیکن بالآخر کابل کے عوام کو اس کی خبر ہو گئی اور جو لوگ حکومت کی جدید اصلاحات