شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 300 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 300

300 تھیں جن کو امیر افغانستان میں جاری کرنا چاہتا تھا چونکہ مصطفیٰ کمال ایک مسلمان انقلابی لیڈر تھا اور چند سال پہلے ترکی میں مذہبی ملاؤں کا زور ختم کر کے اس نے جمہور یہ ترکی میں قومی اور سیاسی بنیادوں پر نیا نظام قائم کیا تھا اس لئے ان سے بات چیت اور مشورہ ایک طبعی تقاضا تھا جسے امیر امان اللہ خان نے پورا کرنا چاہا۔اس گفتگو کا مختصر خلاصہ درج کیا جاتا ہے مصطفیٰ کمال اتاترک نے کہا کہ : اگر آپ ترکی کی طرح اپنے ملک میں اصلاحات نافذ کرنے کا خیال رکھتے ہیں تو اعلیٰ حضرت میرے بھائی کو کامل احتیاط کے ساتھ بہت سے امور متعلقہ کی نسبت پہلے اپنا اطمینان کر لینا چاہئیے۔اُمید ہے کہ اعلیٰ حضرت اس مسئلہ کی نزاکت کو اچھی طرح محسوس کرتے ہوں گے کہ جب پبلک کی ناپسندیدگی کی وجہ سے اصلاحات نا کام ہو رہی ہوں تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ناپسندیدگی بغاوت کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔اس لئے مقدم امر یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اصلاحات جاری کرنے والا ہردل عزیزی کے اعتبار سے پبلک میں کیا درجہ رکھتا ہے؟ اگر اس کی محبت اور ہر دل عزیزی مسلم ہے اگر ایسا ہے تو پبلک اصلاحات سے ناراض ہونے پر بھی بغاوت اور شورش اور فتنہ انگیزی کی جرات نہ کر سکے گی۔امیر امان اللہ خان : میں بغاوت منگل کے دوران بہت حد تک ملاؤں کا زور توڑ چکا ہوں۔اب ان میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ وہ حکومت افغانستان کے خلاف سراٹھاسکیں۔مصطفی کمال اتاترک : لیکن اگر ملاؤں کا گروہ اعلیٰ حضرت کے خلاف پبلک کو اکسانے میں کامیاب ہو جائے تو کیا آپ کے پاس اتنی فوجی قوت ہے کہ اسے کچل سکیں۔امیر امان اللہ خان : ہاں میں اپنی فوج کے ذریعہ بآسانی ایسی شورش اور فتنہ کو دبانے میں کامیاب ہو جاؤں گا میں اپنی فوج میں بے حد ہر دل عزیز ہوں اور مجھے اپنی فوج کی وفا شعاری پر پورا اعتماد ہے۔