شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 252
252 لمبے عرصہ ظلم کے میں اپنے دل میں افغان گورنمنٹ اور اس کے حکام کے خلاف جذبات نفرت نہیں پاتا۔اس کے فعل کو نہایت برا سمجھتا ہوں۔مگر میں اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اور وہ میری ہمدردی کی محتاج ہے اگر کوئی شخص یا اشخاص اخلاقی طور پر اس حد تک گر جائیں کہ ان کے دل میں رحم اور شفقت کے طبعی جذبات بھی باقی نہ رہیں۔تو وہ یقینا ہماری ہمدردی۔۔۔۔۔۔کے زیادہ محتاج ہیں۔میں نے آج تک کسی سے عداوت نہیں کی اور میں اپنے آپ کو اس واقعہ کی بناء پر خراب کرنا نہیں چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے بچے متبع بھی اسی طریق کو اختیار کریں گے۔۔میں جانتا ہوں کہ ظلم نہ ظلم سے مٹتے ہیں اور نہ عداوت سے۔پس میں نہ ظلم کا مشورہ دوں گا اور نہ عداوت کے جذبات کو اپنے دل میں جگہ دوں گا۔۔۔۔میری اغراض اس میٹنگ میں شمولیت سے یہ ہیں۔اول اس امر کا اظہار کہ امیر کے اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے۔یہ فعل اسلام کے بالکل خلاف ہے۔اسلام کامل مذہبی آزادی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ حق اور باطل ظاہر امور ہیں۔پس کسی پر زبر دستی کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ہر شخص کے لئے اس کا اپنا دین ہے۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جو لوگ مرتد ہوئے ان کو کسی نے نہیں قتل کیا۔صرف اس وقت تک ان سے جنگ کی گئی جب تک کہ انہوں نے حکومت سے بغاوت جاری رکھی۔پس کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب کرے۔ایسے افعال ہر مذہب کے لوگوں سے ہوتے رہتے ہیں۔وو دوم اس امر کا اظہار کہ ہم لوگ امیر کے اس فعل کو درست نہیں سمجھتے۔اور اس اظہار کی یہ غرض ہے کہ جب کسی شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کے فعل کو دنیا عام طور پر نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اس کی آئندہ اصلاح ہو جاتی ہے۔پس بلا جذبات عداوت کے اظہار کے جن کو میں اپنے دل میں نہیں پاتا۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کابل گورنمنٹ کا یہ فعل اصول اخلاق و مذہب کے خلاف تھا اور ایسے افعال کو ہم لوگ نا پسندیدہ سمجھتے ہیں۔