شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 251
251 ”اے بہنو! اور بھائیو! گو یہ واقعہ اپنی ذات میں بھی نہایت افسوس ناک ہے مگر یہ واقعہ منفرد نہیں ہے۔یہ تیسرا خون ہے جو گورنمنٹ افغانستان نے صرف مذہبی اختلاف کی بناء پر کیا ہے۔” سب سے پہلے مولوی عبدالرحمن صاحب کو امیر عبدالرحمن خان نے احمدیت کی بناء پر گلا گھونٹا کر مروا دیا۔پھر صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب کو جو خوست کے ایک بڑے رئیس تھے اور تہیں ہزار آدمی ان کے مرید تھے اور علم میں ان کا ایسا پا یہ تھا کہ امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کے موقعہ پر انھوں نے ہی اس کے سر پر تاج رکھا تھا۔امیر حبیب اللہ خان نے سنگسار کر وا دیا اور باوجود اس عزت کے جو ان کو حاصل تھی۔ان کو پہلے چار ماہ تک قید رکھا گیا اور زمانہ قید میں طرح طرح کے دکھ دیئے گئے لیکن جب انھوں نے اپنے عقائد کو ترک نہ کیا تو ان پر سنگساری کا فتویٰ دیا اور حکم دیا کہ ان کی ناک چھید کر اس میں رہتی ڈالی جائے اور پھر اس رسی سے گھسیٹ کر ان کو سنگسار کرنے کی جگہ تک لے جایا جائے۔مسٹر مارٹن اپنی کتاب UNDER THE ABSOLUTE AMIR میں ان کی شہادت کا واقعہ لکھتے ہوئے اس امر پر خاص طور سے زور دیتے ہیں کہ ان کے قتل کا اصل سبب احمد یہ جماعت کی وہ تعلیم ہے کہ دین کی خاطر جہاد جائز نہیں ہے۔امیر ڈرتا تھا کہ اگر یہ تعلیم پھیلی تو ہمارے ہاتھ سے وہ ہتھیار نکل جائے گا جو ہم ہمیشہ ہمسایہ قوموں کے خلاف استعمال کیا کرتے ہیں۔۔۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغان گورنمنٹ کے بعض سفیر اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس قتل کو پولیٹکل رنگ دیں مگر وہ ان واقعات کو کہاں تک چھپا سکتے ہیں۔۔۔کابل کے بازاروں میں اس امر کا اعلان کیا گیا ہے کہ مولوی نعمت اللہ خان کو ارتداد کی وجہ سے سنگسار کیا جائے گا اور آخر میں کابل کے نیم سرکاری اخبار ”حقیقت کو وہ کہاں لے جائیں گے جس نے مقدمہ کی پوری کا رروائی چھاپ دی ہے۔اور تسلیم کیا ہے کہ شہید مرحوم کے سنگسار کئے جانے کا باعث اس کا مذہب تھا۔مگر میں مضمون کو ختم کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے