شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 241
241 خطبہ جمعہ حضرت مولوی شیر علی صاحب ا میر امان اللہ خان نے تخت نشین ہوتے وقت۔۔۔اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ کابل۔۔۔۔۔۔میں ہر مذہب والوں کو آزادی ہو گی۔اس اعلان سے اصل مقصود احمدی ہی تھے کیونکہ افغانستان میں ایک احمدی ہی ایسی قوم تھی جس کو مذہبی آزادی حاصل نہ تھی۔اس اعلان عملی طور پر بھی احمدی جماعت کو فائدہ پہنچا۔- مگر رعایا نے امیر کا یہ رویہ دیکھ کر بغاوت کا علم بلند کیا اور یہ افواہ ملک میں پھیل گئی کہ امیر صاحب احمدی ہو گئے ہیں۔اس الزام کو دور کرنے کے لیے امیر نے لوگوں سے ڈر کر اور ان کو خوش کرنے کے لیے ایک بے گناہ کو قتل کر دیا۔اور اس آزادی کے اعلان کو جس کی رو سے احمدیوں کو مذہبی آزادی کی امید دلائی گئی تھی منسوخ کر دیا اور کہا گیا کہ آزادی سے مراد مذہبی آزادی نہ تھی بلکہ شخصی آزادی تھی مذہبی آزادی نہ کبھی اس ملک میں ہوئی نہ اب ہے۔یہ کام اس نے لوگوں کو خوش کرنے کے واسطے کیا۔اور اپنی رعایا کے دیوتا کے آگے ایک بے گناہ احمدی نوجوان کی قربانی پیش کی۔اس نے رعایا کا خوف کیا لیکن اس خدائے قہار کا خوف نہ کیا جس نے فرمایا ہے وَمَنْ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءُ هُ جَهَنَّمُ - اس نے رعایا کے خوش کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کا یا اب دیکھئے کہ وہ رعایا کو خوش کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہے۔امیر کو یہ طاقت تو نہیں کہ وہ کسی غیر سلطنت کی رعایا کو خواہ وہ سلطنت کیسی ہی کمزور ہو قتل کر سکے لیکن ایک بے گناہ احمدی پر بڑی دلیری سے ہاتھ چلا دیا۔اس نے سمجھا کہ یہ ایک بیکس انسان ہے اس کے متعلق کون باز پرس کرنے والا ہے ان لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے تو وہ ڈرتا ہے جن کی حمایت کرنے کے لئے کوئی غیر حکومت موجود ہے لیکن وہ نہ ڈرا تو ایک بے گناہ اور بے ضرر اور امن پسند احمدی کے قتل سے نہ ڈرا جو اس کے پایہ تخت میں درویشانہ زندگی بسر کرتا تھا۔اس نے سمجھا کہ اس غریب کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں اور نہایت دلیری