شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 238 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 238

238 ہیں۔ان مرنے والوں کے لئے بڑا درجہ ہے کیونکہ انہوں نے ثبات ایمان کا مقام پالیا تھا اور اس کا ثبوت انہوں نے جان دے کر دے دیا۔۔۔۔ہم کو اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے طیار ہونا چاہئے۔اور اس کے لئے قربانی کے لئے طیار رہنا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس کی محبت اور عظمت کے سوا اور کسی کی محبت یا عظمت ہمارے دلوں میں نہ رہے۔آمین‘ (۳۷) جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مقیم لندن کا خط افغانستان کے سفیر کے نام ۵ ستمبر کو حسب ذیل خط جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے افغانی سفیر کو لکھا: " ” جناب عالی ! بذریعہ تار برقی قادیان سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ نعمت اللہ خان احمدی مبلغ کا بل کو محض اس جرم کی پاداش میں سنگسار کیا گیا ہے۔کہ اس نے ایک ایسے شخص کی وو صداقت کو قبول کیا جو دنیا کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اس زمانہ میں مبعوث کیا گیا ہے۔” جناب عالی ! یہ خبر ان لوگوں کے لئے جو اسلامی رواداری و آزادی ضمیر کی تعلیم سے واقف ہیں۔حیرت انگیز ہے۔کیونکہ ایک بادشاہ کو جو مسلمان ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اور ایک ایسی سلطنت کو جو اس کوشش میں ہے کہ مہذب تسلیم کی جائے۔ایسے بدترین جرم کا اپنے آپ کو مجرم ٹھہراتی ہے۔جو نہایت ہی خلاف انسانیت ہے اور یہ وجہ بھی کہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ آپ کی قوم وحشت کے ظلمت کدہ سے نمودار ہوئی ہے۔ہمیں اس بات پر آمادہ نہیں کرتی کہ ہم یہ خیال کر لیں کہ ان میں ابھی اس قدر درندگی باقی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے متعلق ان سے اعلیٰ اور ارفع خیال رکھتا ہو۔” جناب عالی ! آپ کی قوم اور آپ کے فرماں روا نے اسلامی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کچھ بھی استفادہ حاصل نہیں کیا۔لیکن آپ کے مغربی اقوام سے میل جول نے اگر چہ وہ قلیل عرصہ سے ہی ہو۔آپ کو بتا دیا ہو گا۔کہ وہ قوم جو مذہبی اختلاف کی بناء پر دوسرے کے