شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 237
237 وو غیر منقطع ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ان کی عزت ہمیشہ کرتا ہے ان کو حیات ابدی ملتی ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسی ابدی زندگی اور دائمی عزت کے لئے کوشش کریں۔اور اس کے لئے وہ اپنے اعمال میں اس کلیہ کو یا درکھیں۔جو الحمد للہ رب العالمین میں بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔دو پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کریں۔ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو خالی نہیں رکھا۔ہم کو ایسے ملک میں پیدا کیا۔جہاں قتل اس طرح پر نہیں ہوتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسے ملک میں بھی ہماری جماعت کو پیدا کر دیا جہاں قتل ہوتے ہیں اور اس طرح پر ٹریڈیشن کو قائم کر دیا۔ٹریڈیشن بڑا کام کرتی ہے اور اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔اس سے جوش پیدا ہوتا ہے ابتدا مشکلات ہوتی ہیں لیکن جو شخص پہلے جاتا ہے وہ راستہ کھول دیتا ہے۔اسی طرح ہمارے لئے راستہ کھل گیا ہے۔افغانستان کے بعض دوستوں نے اس راستہ کو کھولا ہے۔انہوں نے خدا کے لئے موت کو آسان کر دیا ہے۔۔۔۔خطرناک راستہ میں اگر ایک چل پڑے تو سب چل پڑتے ہیں۔پہلے ہی کے لئے مشکل ہوتا ہے۔اس طرح اس راستہ کو ہمارے دوستوں نے آسان کر دیا ہے۔دو بعض تقومی اور علم کے لحاظ سے کم سمجھے جاتے تھے۔مثلاً نعمت اللہ ایک طالب علم تھا۔اور اسے دراصل وہاں جماعت کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔مگر بعد میں اس کو مبلغ مقرر کر دیا گیا۔اس نے اپنی جان دے کر ثابت کر دیا کہ خدا کی راہ میں قربانی کرنا اس کے لئے بہت آسان تھا۔اس نے اپنے بھائیوں کے لئے اس راستہ کو جان دے کر کھولا ہے۔تار آیا ہے کہ اس نے بڑی بہادری سے جان دی۔اس کو اصرار سے کہا گیا کہ تو بہ کرلو مگر وہ چٹان کی طرح قائم رہا۔پھر اس کو شہر میں پھرایا گیا اور اعلان کیا گیا کہ اسے ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور چھاؤنی میں جا کر سنگسار کیا گیا۔اب گورنمنٹ افغان کوئی اور حیلہ تراش نہیں سکتی۔خود اس کے ہاتھ کٹے ہوئے