شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 216 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 216

216 اخلاق میں مشغول ہو گئے۔جب بھی موقعہ ملتا۔خط و کتابت کر کے اپنے حالات سے اطلاع دیتے رہتے تھے۔عبدالاحد خان صاحب افغان کچھ عرصہ بعد قادیان واپس آگئے۔(۱۴) افغانستان کی سمت جنوبی خوست اور ملحقہ علاقوں میں بغاوت اور احمدیوں کے لئے مشکلات و تکالیف افغانستان کی سمت جنوبی میں رہائش رکھنے والے قبائل، منگل، چمکنی، جدران وغیرہ میں ۱۹۲۳ ء اور ۱۹۲۴ء میں امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی۔اس کے بانی مبانی بعض ملا اور پیر تھے۔بالخصوص ملا عبداللہ ملائے لنگ اور اس کا داما دعبدالرشید ملائے دبنگ اس بغاوت کے پھیلانے میں سرگرم تھے۔بغاوت کے برپا ہونے کے اسباب یہ تھے کہ امیر امان اللہ خان اور اس کے آزادی پسند وزیروں نے ملک افغانستان کے قوانین اور نظام دولت میں بعض ایسی تبدیلیاں اور اصلاحات شامل کی تھیں۔جن کی بعض دفعات ملاؤں کے نزدیک بدعت اور خلاف اسلام تھیں اور اس طرح امیر امان اللہ خان ان کے نزدیک کا فراور بے دین قرار پاتا تھا۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ جب 1919ء میں امیر امان اللہ خان برسراقتدار آیا تو اس نے افغانستان میں مذہبی آزادی دیئے جانے کا عام اعلان کیا اور اس کے نتیجہ میں احمدیوں کے لئے کچھ آرام اور سہولت کا زمانہ آیا۔جب خوست کے علاقہ میں امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت ہوئی تو باغیوں نے احمدیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت میں شریک ہوں۔اس پر خوست کے احمدیوں نے جواب کے لئے مہلت مانگی اور اپنا ایک نمائندہ پشاور کی جماعت احمدیہ کے پاس روانہ کیا اور ان سے مشورہ مانگا کہ ایسی صورت میں جماعت احمد یہ کیا تعلیم دیتی ہے۔پشاور کی جماعت نے اس نمائندہ کو تفصیل سے بتایا کہ احمدیت کی تعلیم یہ ہے کہ احمدی بالعموم اپنی حکومت اور بادشاہ وقت کے وفادار ر ہیں اور اس کے خلاف بغاوت یا شورش میں