شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 215 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 215

215 قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمد یہ صوبہ سرحد لکھتے ہیں کہ اس وقت مولوی نعمت اللہ خان صاحب درمیانہ قد کے خوبصورت نو عمر نوجوان تھے۔اور تازہ خط ریش چہرہ پر آیا ہوا تھا۔انداز بیس یا پچیس سال عمر ہوگی۔وہ نہایت پاکیزہ کم گو پر جوش، متدین نوجوان تھے۔گفتگو میں شیرینی تھی۔خدا تعالیٰ شاہد ہے کہ ان کے ایام قیام پشاور میں ہم پر یہ اثر ہوتا تھا کہ وہ اپنے اخلاق حسنہ اور صلاحیت کی وجہ سے انسان نہیں بلکہ فرشتہ مجسم معلوم ہوتے ہیں۔وہ شیریں کلام مؤثر لہجہ میں کلام کرنے والے سرخ و سفید خوبصورت چہرے والے سیاہ چشم سڈول وجود کشادہ پیشانی ، سیاہ بال سیاہ بادام نما آنکھوں والا انسان تھا۔زبان فارسی تھی اور پشتو بھی بولتے تھے۔اردو بھی قدرے سیکھ لی تھی۔برا در نعمت اللہ خان کی ملائم طبع اور نرم مزاج کو دیکھ کر ہم نے دریافت کیا کہ اگر خدانخواستہ افغانستان حکومت اپنے عہد پر قائم نہ رہے اور آپ کو کوئی ابتلاء یا امتحان پیش آئے۔تو کیا آپ مصائب و شدائد باز پرس و دار و گیر برداشت کر سکیں گے؟ برادر موصوف ( نعمت اللہ خان ) پر ہمارے اس سوال کا ایک خاص اثر ہوا اور انہوں نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ انشاء اللہ آپ دیکھ لیں گے۔میں اس وقت کیا لاف و گزاف کرسکتا ہوں۔“ مولوی نعمت اللہ خان کی کابل میں آمد اور مشن کا قیام بالآخر برا در نعمت اللہ خان صاحب عبدالاحد خان افغان کی معیت میں پشاور سے احباب جماعت سے مل کر رخصت ہوئے۔دعا کی اور براستہ جمرود درۂ خیبر و جلال آباد کابل چلے گئے۔وہاں کے احمدی ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ایک مکان کرایہ پر لیا گیا اور جماعت احمد یہ کابل کو درس القرآن دینے لگے۔احباب جماعت کی ترقی علم دین و تربیت