شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 187
187 ۱۹۲۶ء میں ان میں سے دو صاحبزادگان یعنی صا حبزادہ سید احمد ابوالسن قدی اور صاحبزادہ سید محمد طیب جان قادیان آ کر سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے۔ان کا بیان ہے کہ ” حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پہلی ہی ملاقات کرنے پر حضور نے ہم پر اس قدر شفقت اور نوازش فرمائی ہے کہ ہمیں اپنی تمام تکالیف اور مصائب بھول گئے ہیں اور ہم حضور کے لطف و کرم کا شکریہ ادا کرنے سے اپنے آپ کو قطعاً قاصر پاتے ہیں یہ ہماری انتہائی خوش قسمتی اور نیک بختی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس ارضِ مقدس کی زیارت کا شرف بخشا۔جہاں سے ہمارے والد محترم نے ٹو ر حاصل کیا تھا اور جہاں ہم حضرت خلیفۃ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے“ اس کے بعد اخبار الفضل تحریر کرتا ہے کہ احباب کرام نے اس سرگزشت کو پڑھ کر اندازہ لگایا ہو گا کہ صاحبزادگان نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے اپنی ذاتی تکالیف کا بہت کم ذکر کیا ہے حالانکہ ان سے عرض کر دیا گیا تھا کہ چونکہ ان کے مصائب اور مشکلات جماعت کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوں گے۔اس لئے وہ افغانی حجاب کو قطع نظر کرتے ہوئے وضاحت سے ان کا ذکر کریں بہر حال جس قد ر حالات انہوں نے بیان کئے ہیں وہ بھی کوئی کم مؤثر نہیں ہیں۔ان کی ہمت اور جرات و استقلال کا ثبوت ہیں احباب دعا فرمائیں کہ شہید مرحوم کے ان نو نہالوں کو اپنے والد محترم کی شاندار یادگار بنائے اور اُن برکات و فیوض سے بہرہ وافر بخشے جن کی خاطر انہوں نے اس قدر مشکلات اور تکالیف کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔(۴۷) حضرت صاحبزادہ سید محمد عبد اللطیف شہید کے صاحبزادہ سید محمد طیب جان کا ایک خواب ” مبایعین حق پر ہیں“ ترجمه از فارسی : - ۳۱ / مارچ ۱۹۲۶ء کی رات کو میں شہر پشاور میں سویا ہوا تھا۔میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں دیکھا کہ حضور جنوب کی طرف منہ کئے بیٹھے ہیں اور حضوڑ کے ارد گرد تمام افغان لوگ ہیں۔جن میں بعض بیٹھے ہیں اور بعض کھڑے