شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 156
156 مفصل رپورٹ لکھوتا کہ کابل میں سرکاری طور پر ان کی زمین کے بدلہ زمین دے دی جائے۔اُس زمانہ میں افغانستان کا نائب السلطنت سردار نصر اللہ خان تھا جو امیر حبیب اللہ خان کا چھوٹا بھائی تھا۔یہ شخص پرلے درجہ کا ظالم تھا۔جس کو تمام افغانستان کے لوگ ظالم کے نام سے یاد کرتے تھے اس نے ہزار ہا بے گناہ کئی مواقع پر مروا دیئے اور سینکڑوں مسلمان بے گناہ قید خانوں میں ڈالے اور سالہا سال تک ان کی پڑتال نہ ہوا کرتی تھی۔اُس کو اس خاندان کے ساتھ بڑی دشمنی تھی۔جب اُس نے دیکھا کہ ان کی جائداد اس قدر زیادہ ہے کہ تمام سرکاری زمین کا بل کی دے دی جائے تو پوری نہیں ہوگی تو اس پر اس نے حکم دیا کہ ان کو جلا وطن کر کے جانب ترکستان بھجوا دیا جائے چنانچہ اس حکم کے صادر ہونے پر ہمیں سخت مصیبت کا سامنا ہوا۔”ہمارے خاندان کے علاوہ باقی تین خاندان جن کا احمدیت سے کوئی تعلق نہ تھا صرف رشتہ داری کی وجہ سے گرفتار تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ ہم یہ درخواست بادشاہ کو پیش کرتے ہیں کہ مرنے والا مر گیا اور اس نے سزا بھگت لی ہم بالکل اس کے مذہب کے ساتھ متفق نہیں اس لئے ہمیں معاف فرما دیں۔باقی تین خاندانوں کے لوگوں نے میرے بھائی محمد سعید سے کہا کہ درخواست میں آپ بھی شریک ہو جائیں ورنہ اس طرح تو ہمارا تمام خاندان در بدر ہو جائے گا مگر بھائی ان کی باتوں میں نہ آئے۔محمد سعید نے باوجود کم عمری کے موت کو ( سامنے) دیکھتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ بے شک لکھ دیں کہ آپ واقعہ میں شریک نہیں ہیں۔ہم بھگت لیں گے اور آپ لوگ اس پر رہا ہو جائیں گے۔اس درخواست سے قبل کو توال نے باقی تین خاندانوں کے نام اس فہرست سے نکال دیئے تھے اور لکھا تھا کہ صرف ان کے خاص رشتہ داروں کو بھیجنا ہے۔انہوں نے بیزاری نامہ بغیر احتیاط کے حکومت میں پیش کیا تھا تا کہ جلا وطنی سے بیچ جائیں مگر عجیب اتفاق ہوا کہ حکومت میں ان کی درخواست پیش ہوئی تو کچھ فائدہ نہ ہوا نا منظور ہو گئی۔اس پر مجبوراً کوتوال نے ان کے نام بھی شامل کر دیئے اور تمام خاندان کو ( جانب )