شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 155 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 155

155 کرایہ پر لی اور اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔جب ایک منزل طے کی تو دیکھا کہ حضرت شہید مرحوم کے اہل و عیال کو حکومت کے سپاہی کا بل لے جارہے ہیں۔مستورات اور بچے بھی ساتھ ہیں۔محافظ سپاہیوں نے سید احمد نور سے خچر چھین لی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل وعیال کی ضرورت کے لئے استعمال میں لے آئے۔سید احمد نور نے حضرت شہید مرحوم کے کسی عزیز یا رشتہ دار سے مصلحنا بات نہیں کی راستہ میں ایک جگہ بیٹھ گئے تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ملا میر و جو مولوی عبد الستار خان معروف بہ بزرگ صاحب کے چھوٹے بھائی تھے قافلہ کے پیچھے کچھ فاصلہ پر آ رہے ہیں۔سید احمد نور نے ان کو اشارہ سے بلایا اور شہادت کے متعلق بتا دیا اور یہ کہا کہ قبر کا مقام سردار عبدالرحمن جان سے دریافت کر لیں۔ملا میر و اپنی محبت اور اخلاص کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ صاحب کے اہل وعیال کے پیچھے پیچھے ہو لئے تھے ورنہ ان کی گرفتاری یا کابل لے جائے جانے کا کوئی سرکاری حکم نہ تھا اس کے بعد سید احمد نور پیدل اپنے گاؤں کی طرف چلے گئے۔(۱۰) کابل میں آمد چند دن راستہ میں صرف کر کے کابل پہنچے اور چہار باغ مقام پر ڈیرہ لگا دیا۔جتنے دن کابل شہر میں قیام کیا خوراک وغیرہ کا انتظام ہمارا اپنا تھا۔(۱۱) واقعہ شہادت کے بعد حضرت شہید مرحوم کے تمام بال بچوں اور سارے خاندان کو جس کے افراد کی تعداد مع خدام کے ایک سو کے قریب تھی فوج اور رسالہ کی حراست میں کابل لے جایا گیا جہاں سب کو تو چی باغ میں نظر بند کر دیا گیا۔یہ شروع سردی کا موسم تھا وہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ نظر بند رکھنے کے بعد سب کو ترکستان کے علاقہ میں جلا وطن کر دیا گیا۔اس وقت سخت سردی پڑ رہی تھی اور سامان کی کمی کی وجہ سے اس قافلہ کو سخت تکالیف اور مصائب برداشت کرنا پڑی۔(۱۲) کابل سے جانب ترکستان جلا وطن کئے جانے کا حکم وو ” جب ہم کابل پہنچے تو کابل کی حکومت نے حاکم خوست کو لکھا کہ ان کی جائداد کی