شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 128
128 سید احمد نور صاحب عصر کے وقت چھاؤنی علی خیل سے نکلے اور شام کو اپنے گھر پہنچ گئے گھر والے ان کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ کس طرح نظر بندی سے نکل آیا۔سید احمد نور نے رشتہ داروں سے مشورہ کیا تو سب نے خوشی سے قادیان جانے کی اجازت دے دی یہ طے پایا کہ اسی رات کو نکل چلیں تا کہ حاکم کی طرف سے روک پیدا کر نے کی نوبت نہ آئے رات کو بارہ بجے کے قریب روانہ ہوئے اس وقت بعض آدمی باہر کام میں مصروف تھے انہوں نے دیکھ لیا اور نمبر دار کو اطلاع کر دی۔گاؤں کے لوگ مسلح ہو کر نکل آئے اور ان کو جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب اس کی خبر حکومت کو ملے گی تو ہم سب گرفتار کر لئے جائیں گے۔ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے۔- سید احمد نور صاحب نے ان سے کہا کہ تم نے حاکم کو رپورٹ کرنی تھی سو وہ تم کر چکے ہو۔اب ہمارے نکلنے سے تم پر کیا الزام آئے گا۔میں تو اس ملک میں واپس نہیں آؤں گا سید احمد نور نے گاؤں والوں سے کہا کہ میرے باپ نے تمہیں دین سکھایا اور میں نے بھی تمہاری ضرورت پڑنے پر ہر طرح مدد کی اب اگر تمہارے رپورٹ کرنے پر حکومت حضرت شہید مرحوم کی طرح مجھے بھی مار دے گی تو تمہیں کیا فائدہ ہوگا۔کافی دیر بحث ہوتی رہی لیکن وہ لوگ نہ مانے اور روکنے پر اصرار کرتے رہے اسی حالت میں سید احمد نور صاحب کو کشف ہوا وہ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے دیکھا زمین مجھے کہتی ہے کہ تم جاؤ اگر تم کہو تو ان میں سے ایک ایک آدمی کو پکڑ لوں۔پھر میں نے دیکھا کہ میرا گھر ، زمین ، ساز و سامان اور مال مویشی سب ایک طرف کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہمیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی پھر سب کچھ غائب ہو گیا اور محض اللہ تعالیٰ کی ذات باقی رہ گئی جب یہ حالت دور ہوئی تو دیکھا کہ گاؤں والے کھڑے ہیں میں نے ان کو پختہ یقین اور دھڑتے سے کہا کہ اب ہم ضرور جائیں گے ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا۔میری بات کا ان لوگوں پر بہت اثر ہوا اور نمبر دار میرے پاؤں پر گر پڑا اور بولا کہ بے شک تم لوگ چلے جاؤ مگر ہمارے خلاف بددعا نہ کرنا۔میں نے ان سے کہا کہ اب