شیخ عجم اور آپ کے شاگرد

by Other Authors

Page 111 of 405

شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 111

111 وو۔۔۔جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کا غذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا‘- (۱۱۴) بیان واقعہ ہائکہ شہادت مولوی صاحبزادہ عبدالطیف رئیس اعظم خوست غفر الله له سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے اور اسی رسی سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچایا جائے۔چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رتی ڈالی گئی تب اس رستی کے ذریعہ شہید مرحوم کو نہایت ٹھیٹھے ہنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے گئے۔اور امیر اپنے تمام مصاحبوں کے ساتھ اور مع قاضیوں، مفتیوں اور دیگر اہل کاروں کے یہ درد ناک نظارہ دیکھتا ہوا مقتل تک پہنچا اور شہر کی ہزار ہا مخلوق جن کا شمار کرنا مشکل ہے اس تماشا کے دیکھنے کے لئے گئی۔جب مقتل پر پہنچے تو شاہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اس حالت میں جبکہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دئے گئے تھے امیر اُن کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے انکار کرے تواب بھی میں تجھے بچا لیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے اور جان کیا حقیقت ہے اور عیال واطفال کیا چیز ہیں جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں مجھ سے ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔