شیخ عجم اور آپ کے شاگرد — Page 110
110 اس وقت دربار میں ڈاکٹر عبدالغنی اور اس کے دو بھائی بھی موجود تھے۔انہوں نے دل کھول کر احمدیت کی مخالفت کی اور جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔امیر حبیب اللہ خان نے اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کو تو قیف خانہ بھجوا دیا‘ - (۱۱۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : امیر صاحب جب اپنے اجلاس میں آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ صاحب مرحوم کو بلایا اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے۔اب کہو کہ کیا تو بہ کرو گے یا سزا پاؤ گے تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیا اور کہا کہ میں حق سے تو یہ نہیں کر سکتا۔کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں۔یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔تب امیر نے دوبارہ تو بہ کے لئے کہا اور تو بہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا۔مگر شہید موصوف نے بڑے زور سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔ان باتوں کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ ہم خود اس مجمع میں موجود تھے اور مجمع کثیر تھا۔شہید مرحوم ہر ایک فہمائش کا زور سے انکار کرتا تھا اور وہ اپنے لئے فیصلہ کر چکا تھا کہ ضرور ہے کہ میں اس راہ میں جان دوں۔تب اس نے یہ بھی کہا کہ میں بعد قتل چھ روز تک پھر زندہ ہو جاؤں گا۔یہ راقم کہتا ہے کہ یہ قول وحی کی بناء پر ہوگا جو اس وقت ہوئی ہوگی۔کیونکہ اس وقت شہید مرحوم منقطعین میں داخل ہو چکا تھا اور فرشتے اس سے۔مصافحہ کرتے تھے۔تب فرشتوں سے یہ خبر پا کر ایسا اس نے کہا۔اور اس قول کے یہ معنی تھے کہ وہ زندگی جو اولیاء اور ابدال کو دی جاتی ہے چھ روز تک مجھے مل جائے گی اور قبل اس کے جو خدا کا دن آوے یعنی ساتواں دن میں زندہ ہو جاؤں گا۔اور یادر ہے کہ اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : و لا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احیاء یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں۔پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا۔