شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 24
شعب ابی طالب 24 ہوں۔یہ تیرا ہی کام ہے کہ تو تاریکی کو دنیا سے بھگا دے اور اس دنیا اور انگلی دنیا میں امن بخشے تیرا غصہ اور تیری غیرت مجھ پر نہ بھڑکیں۔تو اگر ناراض بھی ہوتا ہے تو اس لئے کہ پھر خوشی کا اظہار کرے اور تیرے سوا کوئی حقیقی طاقت اور کوئی حقیقی پناہ کی جگہ نہیں۔( ترجمه از دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۱۲۸) آپ ایک درخت کے نیچے زخموں اور تھکان سے چورلوگوں کے ظلموں سے دل برداشتہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا میں مصروف تھے کہ آپ پر عتبہ اور شیبہ کی نظر پڑی جو آپ کے ہم وطن تھے اور کچھ رشتہ داری بھی تھی۔اسی ناتے اُنکے دل میں آپ کے لئے کچھ ہمدردی پیدا ہوئی ایک ٹرے میں کچھ انگور رکھ کے اپنے عیسائی نوکر عداس کے ہاتھ آپ کو بھجوائے آپ نے قبول فرمائے انگور توڑا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کہ کر منہ میں رکھا۔عداس اللہ اور رحمن ورحیم ناموں سے چونکا۔آپ اُس سے باتیں کرنے لگے۔تم کہاں کے رہنے والے ہو اور کس مذہب کے پابند ہو؟ اُس نے کہا : میں نینوا کا رہنے والا ہوں اور میرا مذہب عیسائیت ہے۔آپ نے فرمایا: کیا وہی نینوا جو خدا کے صالح بندے یونس بن متی کا مسکن تھا۔اُس نے کہا : جی ہاں مگر آپ کو یونس کا حال کیسے معلوم ہوا؟ آپ نے فرمایا: وہ میرا بھائی تھا کیونکہ وہ بھی اللہ کا نبی تھا اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔پھر آپ نے اُسے اسلام کی تبلیغ فرمائی جس کا اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے آگے بڑھ کر جوشِ اخلاص میں آپ کے ہاتھ چوم لئے۔اس نظارے کو دور سے کھڑے کھڑے عتبہ اور شیبہ نے بھی دیکھ لیا۔چنانچہ جب عداس ان کے پاس واپس گیا تو انہوں نے کہا عداس یہ تجھے کیا ہوا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ چومنے لگا یہ شخص تو تیرے دین کو خراب