شرح القصیدہ — Page 97
شرح القصيده ۹۷ بنی ہوئی جس قدر شرا میں ہیں وہ سب مجھے پلا دے اور ایسا کر کہ شراب کے ذخیرہ سے کچھ باقی نہ رہ جائے۔پھر کہتا ہے کہ میں نے مقام بعلبک میں بھی بہت شراب پی ہے اور پھر اسی قدر دمشق میں بھی۔اور ایسا ہی مقام قاصرین میں بھی پیتا رہا۔قدیم مذاہب میں سے یہودیت اور عیسائیت میں بھی شراب کا استعمال کسی نہ کسی صورت میں جائز قرار دیا گیا۔سب سے زیادہ عیسائیوں نے شراب نوشی کی۔اس زمانہ میں بھی شراب کشیدگی اور شراب نوشی کا مرکز عیسائی ممالک ہی بنے۔اور جس ملک میں بھی اُن کا اثر اور نفوذ ہوا وہاں کے نوشی میں اضافہ ہوتا گیا۔موجودہ زمانہ میں امریکہ جیسی عظیم الشان طاقت نے جو اس وقت حُسنِ انتظام اور ظاہری طاقت اور دولت و ثروت کے لحاظ سے دنیا میں نمبر اول ہے امتناع شراب نوشی اور کشیدگی کے لئے قوانین بنائے اور پولیس ، فوج اور ٹیکس کے محکموں نے مل کر متحدہ طور پر اپنے ملک سے ئے نوشی کی لعنت دُور کرنے کے لئے کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے بلکہ امتناع شراب کے قوانین کے نفاذ کے بعد شراب نوشی پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی۔اسی طرح حکومت بھارت نے موجودہ سال جزوی پابندی لگائی۔اس کا جو نتیجہ نکلاوہ نمائندہ نوائے وقت مقیم دہلی کے الفاظ میں یہ ہے۔وو دہلی میں یکم اپریل ۱۹۵۶ء سے جزوی طور پر شراب نوشی پر پابندی عائد ہے۔دیسی شراب کے سات ٹھیکے تھے جن میں سے گنجان آبادی والے ختم کر دیئے گئے اور افتادہ جگہوں پر تین ٹھیکے رہنے دیئے