شرح القصیدہ — Page 92
شرح القصيده ۹۲ عورتوں کو غزلان کہا گیا ہے کیونکہ عرب لوگ حسین و جمیل عورت کو ہرن یا نیل گائے سے تشبیہ دیتے تھے۔چنانچہ اخطل اپنے گر جے کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے۔ان مَنْ يَدْخُلُ الْكَنِيسَةَ يَوْمًا يُلْقَى فِيهَا جَاذِرًا وَ ظِبَاء اگر ہمارے گھر جا میں کسی دن کوئی جائے تو بہت سے گوزن بچے اور ہرن اس میں پائے گا۔یعنی بہت سی خوبصورت ، جوان اور باجمال چست عورتوں کو دیکھ کر حظ اُٹھائے گا۔پس اہل حجاز جو رات دن حسین عورتوں کے عشق میں فنا تھے وہ تیری صحبت سے اے میرے محبوب خدائے رحمان کے عشق میں فنا ہو گئے۔اُن کے خیالات ، اُن کے افکار، اُن کے احساسات، اُن کے جذبات، اُن کی حرکات وسکنات ، اُن کا قیام وقعود، اُن کا کھانا اور پینا ، اُن کے اقوال و افعال اور اُن کے ارادات و خواہشات سب خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہو گئے۔انہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایسے سونپ دیا جیسے کہ مردہ بدست زندہ ہو۔-٢٥ شَيْتَانِ كَانَ الْقَوْمُ عُميَّا فِيهِمَا حَسْوُ الْعُقَارِ وَ كَثْرَةُ النِّسْوَانِ معانی الالفاظ۔غمی۔انمی کی جمع ہے۔اندھے۔حسو تھوڑ اتھوڑا مزے لے لے کر پینا۔عُقارُ : شراب۔نسوان۔جمع ہے۔اس لفظ کی مفرد کوئی نہیں ہے۔عورتیں۔