شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 91 of 198

شرح القصیدہ — Page 91

شرح القصيده ۹۱ جنہیں عمدہ اور اعلیٰ پایہ کا کلام سمجھ کر خانہ کعبہ میں لڑکا یا گیا تھا۔اور یہی بدیاں جب عیسائیت میں ایک حد تک داخل ہو گئیں تو اُن سے بھی روحانیت مفقود ہو گئی۔چنانچہ اخطل جو پہلی صدی ہجری میں مشہور عیسائی شاعر گزرا ہے گو اپنی حالت بیان کرتا ہے لیکن اُس وقت کے عیسائیوں کی اندرونی حالت کی خرابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ کہتا ہے۔بَانَ الشَّبَابُ وَ رُبَّمَا عَلَّلْتُهُ بِالْغَانِيَاتِ وَ بِالشَّرَابِ الْأَصْهَبِ یعنی جوانی مجھ سے جُدا ہو گئی اور میں نے اس کے روکنے کے لئے کئی مرتبہ اور بہت دفعہ یہ حیلہ کیا ہے کہ پیکر حسن و جمال عورتوں اور سُرخ شراب کے ساتھ اپنا شغل رکھا ہے۔اس شعر میں اخطل نے جو اپنی قوم میں نہایت معزز اور مکرم تھا اپنی زندگی کے واقعات کا صحیح نقشہ کھینچ دیا ہے اور بدکاری کے لوازمات یعنی خوبصورت عورتیں اور ارغوانی شراب کا ذکر کر کے اپنی بدکاری کا اعتراف کیا ہے۔الغرض یہ تنوں بدیاں یعنی عورتوں سے عشق بازی اور شراب نوشی جو بد معاشی کے لوازمات میں سے ہیں اور موسیقی یعنی گانا بجانا جو اس کے توابع میں سے ہے عیاشی کی بنیادی چیزیں ہیں۔اس شعر میں عربوں کی برائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ خوبصورت عورتوں سے بے محابا عشق بازی کرتے تھے اور ہر دم عورتوں کا بھوت اُن کے دماغوں پر سوار رہتا تھا۔وہ آزاد تھے، فراغت حاصل تھی اس لئے وہ رنگ رلیوں میں مشغول رہتے۔اس شعر میں خوبصورت