شرح القصیدہ — Page 88
شرح القصيده تھے تو نے انہیں رحمن میں فانی بنادیا۔۸۸ شرح۔یہاں سے چند مذموم اجتماعی برائیوں کا ذکر شروع ہوتا ہے جو عرب میں بکثرت پھیلی ہوئی تھیں۔اور وہ ایسی برائیاں ہیں کہ جو قوم ان میں مبتلا ہو جاتی ہے وہ اخلاقی اور روحانی لحاظ سے تباہ ہو جاتی ہے اور ان کا مداوا نہایت مشکل ہوتا ہے اور وہ فحاشی اور زنا کاری ، شراب نوشی ، عیاشی اور موسیقی ہیں۔تالمود سے ظاہر ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں بھی یہ تینوں برائیاں بدرجہ کمال پائی جاتی تھیں۔جب ان کی اصلاح نہ ہو سکی تو وہ قوم تباہ ہو گئی۔اس وقت یورپین اقوام میں بھی یہ تینوں برائیاں کافی حد تک موجود ہیں مگر ان پر حکومتوں کا کافی حد تک احتساب بھی ہے اور اسی نسبت سے وہ اُن کے بد عواقب کی سزا بھگت رہی ہیں۔بعض حکومتیں ان کے ازالہ کے لئے کوشاں ہیں لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔کیونکہ ایسے بدا فعال کی کھلے بندوں اشاعت کی جاتی ہے اور جنسی جذبات کو اُبھارنے اور برانگیختہ کرنے والے قصے اور کہانیاں اور بیانات آزادانہ اخبارات و رسالجات میں شائع ہوتے ہیں اور ان پر کوئی احتساب نہیں۔ایکٹروں اور خوش گلونغمہ سنج عورتوں اور مردوں کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ان کے رائٹرز اور مؤلّفین کو اعتراف ہے کہ فحاشی اور زنا کاری ہماری سوسائٹی میں ایسی صورت میں سرایت کر چکی ہے جس کو دُور کرنا ممکن نہیں۔عربوں میں یہ تینوں برائیاں اُن کی تہذیب و تمدن کا جزوِ لا ینفکی بن چکی تھیں اور وہ فخریہ طور پر اپنے قصائد اور مجالس میں ان کا ذکر کرتے تھے۔بطور مثال عرب کا