شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 64 of 198

شرح القصیدہ — Page 64

شرح القصيده ۶۴ دڑوں اور وادیوں اور دیہاتوں اور شہروں میں اللہ اکبر کی صدا گونجنے لگی تو بھی مہاجرین نے آپ کے ہمراہ مدینہ میں ہی اپنی سکونت ضروری سمجھی۔یہ شعر میری طبیعت میں بھی ایک زبردست انقلاب کا باعث ہوا۔ہم مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پاتے تھے۔جب جمعہ کی تعطیل ہوتی تو ہم فوراً اپنے گاؤں سیکھواں میں چلے جاتے تھے جو قادیان سے جانب مغرب تین کوس کے فاصلہ پر واقع ہے۔ایک دفعہ شیخ عبد الرحمن صاحب مصری جو اُس وقت مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر تھے ہمارے گاؤں گئے اور والد صاحب مرحوم و مغفور سے کہا کہ دوسرے لوگ تو جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان جاتے ہیں لیکن یہ اپنے گاؤں میں آ جاتے ہیں ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔مگر ہم طالب علموں کو اپنے گاؤں سے جو ہمارا مولد ومسکن تھا شدید محبت تھی۔اس لئے شیخ صاحب کی نصیحت کا ہم طالب علموں پر کوئی اثر نہ ہوا۔لیکن ۱۹۱۷ء یا ۱۹۱۸ء کا واقعہ ہے کہ میں حضرت حافظ روشن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک جلسہ پر لا ہور گیا۔اُس وقت لاہور میں حضرت میاں چراغ دین صاحب مرحوم کے مکان واقعہ بیرون دہلی دروازہ میں نماز ہوا کرتی تھی۔ایک دن نماز مغرب کے بعد حضرت حافظ صاحب مرحوم و مغفور نے اس قصیدہ کے ابتدائی چند اشعار خوش الحانی سے سنائے۔جب اس شعر پر پہنچے تو اس شعر کوشن کر میرے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اپنے گاؤں کی محبت بالکل کا فور ہو گئی۔اس کے بعد شاذ و نادر ہی گاؤں جایا کرتا اور پھر اس کا بھی خاتمہ ہو گیا اور بالآخر میرے والد مرحوم نے بھی گاؤں چھوڑ کر قادیان ہی میں سکونت اختیار کر لی۔