شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 63 of 198

شرح القصیدہ — Page 63

شرح القصيده ۶۳ سے گزرتا ہوا نہ جائے۔یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو تو ہم بے دریغ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔( السيرة النبوية لابن بشّام غزوة بدر الكبری، استيثاق الرسول صلى الله عليه وسلم من أمر الأنصار) صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کی پیروی عاشقانہ رنگ میں کی ہے اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لئے سعادت دارین سمجھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد نبوی میں وعظ فرما رہے تھے اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ جو قبیلہ خزرج کے مشہور شاعر اور اول درجہ کے مخلصین میں سے تھے مسجد کے پاس سے ایک گلی میں گزرر ہے تھے کہ مسجد کے اندر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی۔بیٹھ جاؤ۔یہ وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے رہے حتی کہ آپ نے خطبہ ختم فرمالیا۔ممکن ہے آج کل کا خدا فراموش اور مادہ پرست انسان ان کے اس فعل کو قابل اعتراض ٹھہرائے کیونکہ اس کے دل میں وہ ایمان اور وہ اخلاص نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں میں تھا۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے اس فعل کے پیچھے یہ جذ بہ کار فرما تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی آواز میرے کان میں پہنچ گئی تو میرا فرض ہے کہ فی الفور اس کی تعمیل کروں۔ایسا نہ ہو کہ اس حکم کی تعمیل سے قاصر رہنے والوں میں شمار کیا جاؤں۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی پیروی میں صحابہؓ نے نہایت صدق و ثبات اور کامل محبت و اخلاص کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے اپنے مولد، وطن اور مسکن کو آپ کی خاطر ایسا چھوڑا کہ اُن کی یاد تک بھلا دی۔جب مکہ مکرمہ فتح ہو گیا اور عرب کے ریگستانوں اور میدانوں ، پہاڑوں اور ان کی چوٹیوں اور اُن کے