شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 54 of 198

شرح القصیدہ — Page 54

شرح القصيده سورج اور روشن چاند بنایا۔۵۴ پس جیسے ظاہری نظامِ عالم میں سورج اور چاند کے علاوہ بارہ برج پائے جاتے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔الْحَملُ - القَوْرُ " - الْجَوْزَاء " - الشَّرْطَانُ "- الْأَسَدُ السُّنْبُلَةُ " - الْمِيزَانُ - الْعَقَرَبُ - الْقَوْسُ - الْجَدَى " - التَّلْو "- الْحُوتُ "۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نظام روحانی میں سورج اور چاند اور بارہ برج بنائے ہیں۔قرآن مجید میں سورج کو سراج سے تعبیر کیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا - (نوح:۱۷) پھر سورة النبأ میں اس کی صفت وَھاج بیان فرمائی ہے۔یعنی جو ذاتی طور پر بہت روشنی دینے والا ہے اور اس کی گرمی دور دُور تک محسوس ہوتی ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا:۔وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا منيرا - (الاحزاب : ۴۷) کہ آپ سراج منیر ہیں یعنی ایسے سورج ہیں جو دوسروں کو اپنے ! نور سے منور کرتے ہیں“ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر امت محمدیہ میں سے کسی ایک شخص کو مبعوث کرتا رہے گا جو دینِ اسلام کو تازہ کرے گا۔اور چودھویں صدی کا مجد د مسیح اور مہدی کہلائے گا۔پس پہلی صدی کو چھوڑ کر جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور چودھویں صدی کو جس کا مجدد