شرح القصیدہ — Page 29
شرح القصيده ۲۹ جوش عشق آپ کی تحریروں کو پڑھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے گویا آپ کے دل میں اپنے مطاع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کا ایک سمندر موجزن ہے۔اور جب اس میں جوش آتا ہے اور تلاطم کی صورت پیدا ہوتی ہے تو کوئی چیز اس کی بلند اور تیز موجوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔اشعارِ ذیل سے آپ کے جوشِ عشق و وفور محبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔تا بمن نور رسول پاک را بنموده اند عشق او در دل ہے جوشد چو آب از آبشار آتشِ عشق از دم من ہیچو برقے مے جہد یک طرف اے ہمدمان خام از گرد رد و جوار ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷) یعنی جب سے مجھے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دکھایا گیا ہے حضور کا عشق میرے دل میں یوں جوش مارتا ہے جیسے آبشار سے پانی۔آپ کے عشق کی آگ میرے سانس سے بجلی کی طرح نکلتی ہے۔اے خام طبع رفیقو! میرے آس پاس سے ہٹ جاؤ۔“ محبوب کے رنگ میں رنگین ہونا پھر کمال محبت کی حقیقت یہ ہے کہ جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے وہ اس کے