شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 28 of 198

شرح القصیدہ — Page 28

شرح القصيده ۲۸ اپنے محبوب کے لئے غیرت دکھانا اسی وفور محبت کی وجہ سے آپ کو اپنے محبوب کی عزت و عظمت کے خلاف ایک لفظ سنا بھی گوارا نہیں تھا اور اس سے آپ کو دلخراش تکلیف اور روح فرسا اذیت پہنچتی تھی۔چنانچہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس کے خلاف کور چشم و دریدہ دہن پادریوں کی یاوہ سرائیوں اور ہرزہ درائیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی قسم اگر میرے سب لڑکے ، بچے اور پوتے میرے انصار اور خدام میرے سامنے قتل کر دیئے جاتے اور میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جاتے اور میری آنکھوں کی پتلیاں نکال دی جاتیں اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاتا تو یہ سب کچھ مجھ پر ان کے اس توہین آمیز استہزاء سے زیادہ شاق نہ گزرتا۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵ ترجمه از عربی عبارت) ایک دفعہ جب آپ لا ہور میں تشریف فرما تھے ، پنڈت لیکھرام نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں سخت بد زبانی کر چکا تھا آپ کو سلام کہا مگر آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔پھر اُس نے دوبارہ سلام کیا لیکن آپ نے پھر بھی توجہ نہ فرمائی۔اس پر آپ کے ایک مرید نے عرض کیا کہ پنڈت لیکھر ام سلام کہتا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ وہ میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کہتا ہے۔آپ کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ جو شخص آپ کے محبوب آقا کا بدگو ہے اس کو اس کے سلام کا جواب دیا جائے۔