شرح القصیدہ — Page 24
شرح القصيده يَا حب ۲۴ إِنَّكَ قَد دَخَلْتَ مَحَبَّةً میرے پیارے تیری محبت میرے في مُهْجَتِى وَ مَدَارِكِي وَ جَنَانِي خون ، میری جان ، میرے حواس اور میرے دل میں رچ گئی ہے من ذكرٍ وَجُهِكَ يَا حَدِيقَةً بَهْجَتِي اے میری مسرت کے باغ تیرے منہ کی یاد سے لَمْ اَلحل في لحظ ولا في أن میں ایک آن اور ایک لحظہ بھی خالی نہیں ہوتا چشمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا میرا جسم شوق غالب کے سبب تیری طرف اُڑا جاتا ہے يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ اے کاش ! مجھ میں قوتِ پرواز ہوتی