شرح القصیدہ — Page 23
شرح القصيده ۲۳ - يَا سَيِّدِى قَدْ جِئْتُ بَا بَكَ لَاهِفًا اے میرے آقا ئیں مظلوم ومعطر ہونے کی حالت میں فریادی بن کر تیرے دروازے پر حاضر ہوا ہوں وَ الْقَوْمُ بِالْإِكْفَارِ قَد أَذَانِي بحالیکہ قوم نے مجھے کافر کہہ کر سخت ایذا دی ہے۔-٢٥ يَفْرِى سِهَامُكَ قَلْبَ كُلّ مُحَارِبٍ تیرے تیر ہر محارب کے دل کو چیرتے ہیں وَ يَشْخُ عَزْمُكَ هَامَةَ القُعْبَانِ اور تیرا عزم اژدہے کے سر کو کچل ڈالتا ہے -٢٦ لِلهِ دَرُكَ يَا إِمَامَ الْعَالَمِ آفرین مقتدائے أنتَ السَّبُوقُ وَ سَيِّدُ الشُّجَعَانِ تو سب سے آگے بڑھا ہوا ہے اور تمام بہادروں کا سردار ہے - انظر انْظُرْ إِلَى بِرَحْمَةٍ وَ تَحَلُّنٍ مجھ پر رحم اور شفقت کی نظر کرنا ! يا سيدي أنا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ اے میرے آقا میں ایک ناچیز غلام ہوں