شرح القصیدہ — Page 168
شرح القصيده ۱۶۸ اور احادیث نبویہ میں تصریح سے آیا ہے کہ ان کا رفع اُس وقت ہوا جب کہ اُن کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ہم کہتے ہیں کہ احادیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک سو بیس سال کی عمر پانے کا ذکر تو ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ میری عمر اُن سے نصف ہو گی۔لیکن اُن کے رفع کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں۔یہ عقیدہ تو در حقیقت نو مسلم عیسائیوں کے ذریعہ مسلمانوں میں آیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں۔اور جیسا کہ ہم نے تفصیل سے اوپر بیان کر دیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا یہ عقیدہ ہر گز نہیں تھا۔وہ سب حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے اور دوسری صدی میں حضرت امام مالک بھی جو چار ائمہ فقہ میں سے پہلے امام ہیں جن کی وفات ۱۷۹ھ میں ہوئی حضرت عیسی علیہ السلام کے فوت ہو جانے کے قائل تھے۔چنانچہ امام محمد طاہر لکھتے ہیں : دو وَ الْأَكْثَرُ أَنَّ عِيسَى لَمْ يَمْتُ وَ قَالَ مَالِكَ مَاتَ 66 (مجمع البحار جلد ا صفحه ۲۸۶ مطبوعہ مطبع العالی منشی نولکشور ۱۳۱۴ھ ) کہ اکثر تو یہی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہیں مرے لیکن امام مالک نے فرمایا ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے سچ فرمایا۔بدنیا گر کسے پائندہ بودے ابوالقاسم محمد زندہ بودے