شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 112 of 198

شرح القصیدہ — Page 112

شرح القصيده ۱۱۲ - فَطَلَعْتَ يَا شَمْسَ الْهُدَى نُصْعًا لَّهُمْ لِتُضِيْنَهُمْ مِنْ وَجْهِكَ النُّوْرَانِي - أُرْسِلْتَ مِنْ رَّبٍ كَرِيمٍ مُحْسِنِ في الْفِتْنَةِ الصَّمَّاءِ وَالطَّغْيَانِ ترجمہ نمبر ۳۸۔اتنے میں اسے آفتاب بدایت کو ان کی خیر خواہی کے لئے طلوع ہوا تا اپنے نورانی چہر سے انہیں منور کر دے۔ترجمہ نمبر ۳۹۔تو خدائے کریم محسن کی طرف سے سخت خوفناک فتنے اور طغیانی کے وقت مبعوث کیا گیا۔شرح۔ان دو شعروں میں اُس انقلاب عظیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ایک اگھڑ اور اُجڈ ننگ انسانیت قوم میں خدا تعالیٰ کے رسول محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے رُونما ہوا۔یہاں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اس تقریر کا درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے قریش کے اُس وفد کی موجودگی میں جس نے نجاشی شاہ حبشہ سے اُن مسلم مہاجرین کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا جنہوں نے قریش کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ میں پناہ لی تھی۔آپ نے شاہ نجاشی کے دریافت کرنے پر نہایت رقت انگیز پیرایہ میں فرمایا :-