شانِ قرآنِ مجید — Page 51
01 انہوں نے سفر کیا اور انہوں نے اپنی کوششوں اور تنگ دو میں کوئی دقیقہ اسلام کے لئے اٹھا نہ رکھا یہاں تک کہ دین کو فاریس اور چین اور روم اور شام تک پہنچا دیا اور جہاں جہاں کفر نے اپنا بازو پھیلا رکھا تھا اور شرک نے اپنی تلوار کھینچ رکھی تھی وہیں پہنچے۔انہوں نے موت کے سامنے سے منہ نہ پھر اور ایک بالشت بھی پیچھے نہ ہٹے اگر چہ کار دوں سے پکڑتے کڑے کئے گئے۔وہ لوگ جنگ کے وقتوں میں اپنی قدم گاہوں پر استوار اور قائم رہتے تھے اور خُدا کے لئے موت کی طرف کرتے تھے۔وہ ایک قوم ہے جنہوں نے کبھی جنگ کے میدانوں سے مختلف نہ کیا اور زمین کی انتہائی آبادی بان یک زمین پر قدم مارتے ہوئے پہنچے۔پر خاطین قرآن کا بند مقام رنجم المدنی میشه ترجمه از عربی کی خدا تعالے کی ہزار ہزار رحمتیں اور برکتیں صحابہ کرام پر ہوں جنہوں نے اپنے خون سے شجر اسلام کی آبیاری کی اور اپنی جانیں نچھاور کیہ کے قرآنی باغ کہ ہرا بھرا کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔اكثر موا حملة القُرابِ لَمَنْ أَكْرَمَهُمْ فَقَدْ ناا اگر مورد فرودی دینی بحوالہ جامع الصغیر سیوطی جلد ) منى