شانِ قرآنِ مجید — Page 19
١٩ شر دیا ہے۔مجھے خبر دی گئی ہے کہ اس کشت می آر کار اسلام کا غلبہ ہے۔میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں رہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔یا درہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ آسمان پر قرار نہ پائے۔سو آسمان کا خُدا مجھے قبل آ ہے کہ آخر کا اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا " ( پیام صلح مدان ) اک بڑی مدت سے نہیں کو کیفر تھا تھا تا رہا اب یعین سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن زنده کتاب قرآن مجید کی دوسری عظیم الشان فضیلت اور خوبی یہ ہے کہ وہ ایک زندہ کتاب ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- " نا نحن نَلْنَا الذِكرَ وَايَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الجز) اس قرآن کو ہم نے اتارا ہے اور ہم یقینا اس کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ جہاں دوسری البانی کتابیں تحریف اور کمی بیشی کا شکار ہوگئیں حضرت مصلح موعود نے دیا چہ تفسیر القرآن میں اس کی متعدد مثالیں دیگر ثابت کیا ہے، وہاں چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود قرآن کریم کے کسی ایک لفظ بلکہ نقطہ یا شوشہ تک میں ذرا برابر کوئی تبدیلی نہیں آئی نہ قیامت تک آسکتی ہے۔ان