شان مسیح موعود — Page 36
شخص کا لیا جا سکتا ہے۔پھر آگے لکھا ہے بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح نازل ہوئی " اب لازماً یہ بعد کی وحی سے مراد اوائل سے بعد کی وحی لینی پڑے گی جس کو نشانہ تک پانچ سال ہوتے ہیں۔مگر آگے پھل کو آپ خود ہی اس وحی کی میعاد تئیس سال بیست ہیں تو معلوم ہوا کہ نہ صرف اوائل کا لفظ ہی لیے زمانہ کو چاہتا ہے۔بلکہ حضرت صاحب کی کھلی تصریح اس بات کا قطعی فیصلہ کرتی ہے کہ اس سے مراد دعوی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے" اس کے آگے تھر یہ کرتے ہیں :- دوسرا نام جو اس زمانہ کا فیصلہ کرتا ہے وہ حضرت صاحب کے یہ لفظ ہیں کہ اس وقت یعنی اوائل کے زمانہ میں میرا یہ عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت۔اب آؤ خدا کے خوف کو دل میں نے کر یہ فیصلہ کرو کہ وہ کونسا زمانہ تھا جب آپ اپنے کو مسیح ابن مریم سے کوئی نسبت نہ دیتے تھے۔کیا یہ زمانہ دعوئی سے پہلے کا تھا یا دھوئی مسیحیت سے بعد کا۔کیا عجب مسیح موجود ہونے کا دعوی کیا تو اس وقت اپنی مسیح ابن مریم سے کوئی نسبت نہ سمجھتے تھے۔کیا انہی تاویلوں پر خوش ہوتے ہو کہ ہم نے نبوت نہ سہی ، فضیلت میں بعد دعوئی کے تبدیلی ثابت کر دی " ( القسوة في الاسلام صفحه ۳۲۰) جناب مولوی محمد علی صاحب کی ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ ان کے نظریہ