شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 159 of 240

شان مسیح موعود — Page 159

فرض کیجئے ایک شہر میں بیس بہادر شہرہ آفاق ہیں۔انہیں ان میں سے ایسے ہیں جن کو بہادری میں شیر کی مانند کہا جاتا ہے اور ایک بہادر ایسا ہے جس کو شیر کہا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ جس کو شیر کہا جاتا ہے وہ بہادروں کی جنس سے نکل کر شیروں کی سینس میں تو داخل نہیں ہو جاتا۔محض اس واسطے کہ اس کا نام شیر رکھ دیا گیا۔فرق صرف انہیں اور اس ایک میں یہ ہوگا کہ اُس ایک کی مشابہت شہر سے اتم اور اکمل ہوئی۔اس کو تشبیہہ بلیغ یا استعارہ سے نامزد کریں گے اور باقی انہیں کو خالی تشبیہہ کے نام سے پکاریں گے۔ٹھیک اسی طرح پہلے محمد دین اور محدثین کو بوہر ان کے انبیاء کے ساتھ مشابہت تامہ نہ ہونے کے ان انبیاء کے ساتھ مماثلت کو معالی تشبیہ کے نام سے پکارا جائے گا۔اور حضرت مسیح موعود کی حمائت کو بوجہ اتم مشابہت کے شبہ یہ بلیغ یا استعارہ کے نام سے نامزد کیا جائے گا۔اسی فرق کی وجہ سے میں طرح سے بہادر آدمی کو شیر کہا جاتا ہے اسی طرح تمام محدثین میں سے حضور کو صریح طور پریہی کہا جاتا ہے۔باقی محدثین کو نبیوں کی مانند کہا جاتا ہے۔اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے حضور کو انبیاء کے زمرہ میں داخل کر ) روح اسلام صفحه ۳۹) دیا گیا ہے" مغالطہ کا جواب اس عبادت میں شیخ مصری صاحب نے بہادر کو استعارہ اور تشبیہ بلیغ کے طور پر شہر قرار دینے کی مثال دے کو ایک مغالطہ دیا ہے۔لہذا اس مغالطہ کے جواب میں چند باتیں