شان مسیح موعود — Page 134
۱۳۹۴ گویا شیخ مصری صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ چونکہ ساری بحث صرف افضل ہونے کے متعلق ہے اس لئے حضرت اقدس کی نبوت اس جگہ زیر بحث نہیں۔اس لئے نبوت مسیح موعود کا ان عبارتوں میں ذکر نہیں کیا گیا۔مگر اس عبادت کے بعد کی عبارت شیخ صاحب نے اپنے مقصد کے خلاف پاکر اس بیگہ سے حذف کر دی ہے۔بحالانکہ حضرت اقدس نے اس میں صاف طور پر اپنے حکم اور نہی کہلانے کا حضرت مسیح ناصری علیدات لام سے افضل ہونے میں دخل قرار دیا ہے۔چنانچہ شیخ صاحب کی پیش کردہ سے عبارت سے متصلہ عبارت میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- عزیز و با جبکہ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا صیح میں ہوں۔تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصیص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہیے کہ آنے والا میسج کچھ چیز ہی نہیں۔نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم ہو کچھ ہے پہلتا ہے۔خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا۔اب خدا سے لڑو۔ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوں تا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو“ (حقیقة الوحی متو) دیکھ لیجئے ! اس عبارت میں جو شیخ مصری صاحب کی پیش کردہ و عبارات سے بعد کی مشعلہ عبادت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے نبی