شان مسیح موعود — Page 133
۱۳۳ اول کو اس سے کچھ نسبت نہیں۔بہر حال یہ دونوں فرقے قائل ہیں کہ آنے والا جو آخری زمانہ میں آئے گا اپنے جلال اور قومی نشانوں کے لحاظ سے پہلے میسج یا پہلی آمد سے افضل ہے۔۔۔۔غرض نہ اہل کتاب اور نہ اہل اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ پہلا میچ آنے والے میسیج سے افضل ہے۔یہود تو وہ مسیح قرار دے کو آخری میسج کو نہایت افضل سمجھتے ہیں۔اور جو لوگ اپنی غلط فہمی سے صرف ایک میسج مانتے ہیں وہ بھی دوسری آمد کو نہایت جلال کی آمد قرار دیتے ہیں اور پہلی آمد کو اس کے مقابل پر کچھ چیز نہیں سمجھتے۔پھر جبکہ ندائے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے بیچ کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں فضل قرار دیتے ہو ؟ " (حقیقة الوحی صفحه ۱۱۵۵۰۱۵۴ یہ نامکمل عبارت پیش کرنے کے بعد جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کارناموں کو وجہ فضیلت قرار دیا ہے۔شیخ صاحب وجوہ فضائل میں پیش کردہ سب عبارتوں کے متعلق یہ بجامع نوٹ دیتے ہیں :- یہ سب عبارتیں اس لئے فضل کی گئی ہیں تا آپ پر یہ روشن ہو جائے کہ ساری بحث حضرت مسیح سے افضل ہونے کی ہے۔" روح اسلام صفحه (۱۸)